🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1020. -- باب: الرجلين يأتمان برجل
-- باب: دو مردوں کا ایک مرد کی اقتدا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5158
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: إِنِّي لَأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا". قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ وَإِنَّ الْأَمْطَارَ إِذَا اشْتَدَّتْ وَسَالَ الْوَادِي حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِي، فَلَوْ صَلَّيْتَ فِي مَنْزِلِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَا فَأُذِنَ لَهُمَا، فَمَا جَلَسَ حَتَّى قَالَ:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِكَ؟" فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے ہوش ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر کے ڈول سے کلی کی۔ محمود بن ربیع رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”میری نظر ختم ہو گئی ہے، جب بارش ہوتی ہے تو وادی میں پانی کی وجہ سے میرے اور مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر نماز پڑھ دیں تو میں اس کو جائے نماز بنا لوں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ اگلی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت طلب کی تو دونوں کو اجازت دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کہاں پسند کرتے ہیں جہاں میں آپ کے گھر نماز پڑھوں؟“ تو میں نے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات نماز پڑھائی اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حلوے کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5158]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5114»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5159
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ ⦗١٣٧⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْهَاجِرَةِ فَوَجَدْتُهُ يُسَبِّحُ، فَقُمْتُ وَرَاءَهُ فَقَرَّبَنِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا جَاءَ يَرْفَأُ تَأَخَّرْتُ فَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ". وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً يَقُومُ الِاثْنَانِ وَرَاءَهُ.
(الف) عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس دوپہر کے وقت آیا۔ میں نے ان کو پایا، وہ نفل پڑھ رہے تھے، میں ان کے پیچھے ہو گیا تو انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ جب وہ آئے تو میں نے پیچھے ہٹنے میں ان کی موافقت کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہم نے صفیں بنا لیں۔
(ب) حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جب تین ہوتے تو دو پیچھے کھڑے ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5159]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 360»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں