السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1085. -- باب: المسافر يقصر ما لم يجمع مكثا ما لم يبلغ مقامه ما أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح
-- باب: مسافر جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے قصر کرتا رہے، جب تک کہ اس کا قیام اس مدت کو نہ پہنچ جائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں قیام فرمایا تھا
حدیث نمبر: 5458
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَجْنَا مَعَهُ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ". قَالَ: قُلْتُ: كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرًا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا أَرَادَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِقَوْلِهِ:" فَأَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا" أَيْ بِمَكَّةَ، وَمِنًى، وَعَرَفَاتٍ، وَذَلِكَ لِأَنَّ الْأَخْبَارَ الثَّابِتَةَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ فِي حَجَّتِهِ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا يَقْصُرُ وَلَمْ يُحْسَبِ الْيَوْمُ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ مَكَّةَ لِأَنَّهُ كَانَ فِيهِ سَائِرًا، وَلَا يَوْمُ التَّرْوِيَةِ لِأَنَّهُ خَارِجٌ فِيهِ إِلَى مِنًى فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ سَارَ مِنْهَا إِلَى ⦗٢١٣⦘ عَرَفَاتٍ، ثُمَّ دَفَعَ مِنْهَا حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَبَاتَ بِهَا لَيْلَتَئِذٍ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَفَعَ مِنْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى فَقَضَى بِهَا نُسُكَهُ، ثُمَّ أَفَاضَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى بِهَا طَوَافَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا يَقْصُرُ ثُمَّ نَفَرَ مِنْهَا فَنَزَلَ بِالْمُحَصَّبِ فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، وَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ يُقِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ أَرْبَعًا يَقْصُرُ، وَهَذَا كُلُّهُ مَوْجُودٌ فِي الْمَجْمُوعِ مِنْ رِوَايَاتِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِمْ فِي قِصَّةِ الْحَجِّ، وَتِلْكَ الرِّوَايَاتُ بِسِيَاقِهَا تَرِدُ بِمَشِيئَةِ اللهِ فِي كِتَابِ الْحَجِّ.
یحییٰ بن ابی اسحاق سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، تو واپسی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”تم مکہ میں کتنی دیر ٹھہرے؟“ انہوں نے فرمایا: ”دس دن۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے قول ”ہم نے وہاں دس دن قیام کیا“ سے مراد مکہ، منیٰ اور عرفات میں ٹھہرنا ہے، اس لیے کہ ثابت شدہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج میں مکہ تشریف لائے جب ذوالحجہ کے چار دن گزر چکے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں تین دن قیام کیا اور قصر فرماتے رہے۔ مکہ میں آنے کے دن کو شمار نہیں کیا گیا، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سفر میں تھے، اور نہ ہی یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو شمار کیا گیا، کیونکہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ چلے گئے جہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز ادا کی۔ پھر جب سورج طلوع ہوا تو وہاں سے عرفات کی طرف روانہ ہوئے، پھر غروبِ شمس کے وقت وہاں سے چلے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے اور وہ رات صبح تک وہیں گزاری۔ پھر وہاں سے چل کر منیٰ آئے اور اپنے مناسک ادا کیے۔ پھر مکہ جا کر طواف کیا۔ پھر منیٰ لوٹ کر وہاں تین دن قیام کیا اور قصر کرتے رہے۔ پھر وہاں سے کوچ کر کے وادیِ محصب میں اترے اور اپنے صحابہ میں کوچ کا اعلان کروایا۔ پھر نکل کر بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور نمازِ فجر سے پہلے اس کا طواف کیا۔ پھر مدینہ کو چل دیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک جگہ چار دن قیام کر کے قصر نہیں کیا۔ یہ سب کچھ حج کے واقعہ میں سیدنا ابن عباس، سیدہ عائشہ، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم وغیرہ کی روایات کے مجموعے میں موجود ہے، اور وہ روایات اپنے سیاق کے ساتھ ان شاء اللہ کتاب الحج میں آئیں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5458]
یہ حدیث صحیح ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے قول ”ہم نے وہاں دس دن قیام کیا“ سے مراد مکہ، منیٰ اور عرفات میں ٹھہرنا ہے، اس لیے کہ ثابت شدہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج میں مکہ تشریف لائے جب ذوالحجہ کے چار دن گزر چکے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں تین دن قیام کیا اور قصر فرماتے رہے۔ مکہ میں آنے کے دن کو شمار نہیں کیا گیا، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سفر میں تھے، اور نہ ہی یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو شمار کیا گیا، کیونکہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ چلے گئے جہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز ادا کی۔ پھر جب سورج طلوع ہوا تو وہاں سے عرفات کی طرف روانہ ہوئے، پھر غروبِ شمس کے وقت وہاں سے چلے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے اور وہ رات صبح تک وہیں گزاری۔ پھر وہاں سے چل کر منیٰ آئے اور اپنے مناسک ادا کیے۔ پھر مکہ جا کر طواف کیا۔ پھر منیٰ لوٹ کر وہاں تین دن قیام کیا اور قصر کرتے رہے۔ پھر وہاں سے کوچ کر کے وادیِ محصب میں اترے اور اپنے صحابہ میں کوچ کا اعلان کروایا۔ پھر نکل کر بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور نمازِ فجر سے پہلے اس کا طواف کیا۔ پھر مدینہ کو چل دیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک جگہ چار دن قیام کر کے قصر نہیں کیا۔ یہ سب کچھ حج کے واقعہ میں سیدنا ابن عباس، سیدہ عائشہ، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم وغیرہ کی روایات کے مجموعے میں موجود ہے، اور وہ روایات اپنے سیاق کے ساتھ ان شاء اللہ کتاب الحج میں آئیں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5458]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1030»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5459
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْمَنِيعِيٌّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَقَمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا". رَوَاهُ ⦗٢١٤⦘ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ عَنْ أَبِي شِهَابٍ، وَرَوَاهُ خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ فَقَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ..
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس دن سفر میں قصر کی اور فرماتے ہیں: اگر ہم زیادہ قیام کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5459]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5460
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَنَحْنُ نَقْصُرُ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا".
ابو شہاب نے حدیث ذکر کی، اس کے آخر میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے سترہ دن قصر کی، اگر ہم زیادہ قیام کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5460]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ تخريجه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو النَّمَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا قَصَرْنَا، وَإِذَا زِدْنَا أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ لُوَيْنٌ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْهُمَا، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا فِي سَبْعَ عَشْرَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، ثنا لُوَيْنٌ فَذَكَرَهُ.
(الف) عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر فرمایا اور حالتِ قیام میں انیس دن نماز قصر کی۔ جب ہم نے سفر کیا تو انیس دن تک نماز قصر کرتے رہے اور جب زیادہ کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔
(ب) لوین نے ابو عوانہ سے (اسی سند سے) روایت کیا کہ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ دن قیام کیا اور نماز قصر کرتے رہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سترہ دن والا قول بھی ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5461]
(ب) لوین نے ابو عوانہ سے (اسی سند سے) روایت کیا کہ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ دن قیام کیا اور نماز قصر کرتے رہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سترہ دن والا قول بھی ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5461]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5458»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ". وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ فَقَالَ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ: تِسْعَ عَشْرَةَ.
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا اور سترہ دن کے قیام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی۔
یہی حدیث ابو معاویہ نے عاصم احول سے روایت کی ہے اور اکثر روایات میں انیس دن کا تذکرہ فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5462]
یہی حدیث ابو معاویہ نے عاصم احول سے روایت کی ہے اور اکثر روایات میں انیس دن کا تذکرہ فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5462]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن حبان 2750»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5463
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْجَوْزِيُّ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيُوسُفُ قَالُوا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا حَدِيثُ الْجَوْزِيِّ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ". وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا". وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي خَيْثَمَةَ وَسُرَيْجٍ: تِسْعَ عَشْرَةَ.
عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا اور انیس دن قیام جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب ہم سفر کرتے اور انیس دن قیام کرتے تو دو دو رکعات پڑھتے۔ جب ہم اس سے زائد قیام کرتے تو چار رکعات نماز پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5463]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5458»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5464
وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ:" سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
عثمان بن ابی شیبہ نے ابو معاویہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا اور سترہ دن قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5464]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5465
وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ فَقَالَ:" سَبْعَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، فَمَنْ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَصَرَ، وَمَنْ أَقَامَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ أَتَمَّ".
حفص بن غیاث رحمہ اللہ، عاصم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سترہ دن کے قیام میں قصر ہے، جو سترہ دن کا قیام کرے وہ قصر کرے اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ پوری نماز پڑھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5465]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5458»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5466
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ تِسْعَةَ عَشَرَ لَيْلَةً يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ"..
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”فتح کے سال انیس دن قیام کیا اور نماز قصر کی، یعنی دو دو رکعات پڑھتے رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5466]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5467
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ"..
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سترہ دن قیام کیا اور دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5467]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أبو داؤد 1232»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ