🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1098. -- باب: الجمع بين الصلاتين في السفر
-- باب: سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5511
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
سالم اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تو مغرب و عشاء کو جمع کر لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5511]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1055»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5512
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
نافع عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تو مغرب و عشا کو جمع کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5512]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 703»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5513
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا: ثنا يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَيُذْكَرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کو جب سفر کی جلدی ہوتی تو مغرب و عشا کو جمع کر لیتے شفق کے غائب ہونے کے بعد اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تو مغرب و عشا کو جمع کر لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5513]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5514
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَهِيَ بِالْمَدِينَةِ، فَأَقْبَلَ فَسَارَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ كَانَ يَصْحَبُهُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَسَارَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فِي سَفَرٍ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ". فَسَارَ حَتَّى إِذْ غَابَ الشَّفَقُ جَمَعَ بَيْنَهُمَا، وَسَارَ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا". وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ بَعْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ، حَتَّى ذَهَبَ هَوَى مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَوْ حَزِبَهُ أَمْرٌ". وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، فَذَكَرَ أَنَّهُ سَارَ قَرِيبًا مِنْ رُبْعِ اللَّيْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى.
(الف) نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہیں صفیہ بنت ابی عبید کی مدد کے لیے بلایا گیا، وہ مکہ میں تھے اور وہ مدینہ میں تھیں، وہ روانہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے ظاہر ہو گئے۔ ایک شخص نے، جو ان کے ساتھ تھا، کہا: نماز! نماز! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما چلتے رہے۔ سالم نے کہہ دیا: نماز! تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں کوئی معاملہ جلدی کا درپیش ہوتا تو ان دو نمازوں کو جمع کر لیتے تھے۔“ پھر وہ چلے اور شفق کے غائب ہونے کے بعد ان دونوں کو جمع کر لیا اور مکہ اور مدینہ کے درمیان تین دن چلتے رہے۔
(ب) موسیٰ بن عقبہ، نافع سے نقل فرماتے ہیں، حدیث کے آخر میں ہے کہ وہ غروبِ شفق تک مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ رات کا حصہ گزر جاتا، پھر وہ اترتے اور مغرب و عشا کی نماز پڑھی اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کر لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر کی جلدی ہوتی یا کوئی سنگین معاملہ ہوتا۔“
(ج) یحییٰ بن سعید انصاری، نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رات کا چوتھائی حصہ ختم ہو جاتا تو وہ اترتے اور نماز پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5514]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 2/51»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5515
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَا: ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ الْعُذْرِيُّ، بِبَيْرُوتَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ⦗٢٢٨⦘ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ وَجَاءَهُ خَبَرُ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، فَقَالَ الَّذِي قَالَ لَهُ الصَّلَاةَ: إِنَّهُ لَيَعْلَمُ مِنْ هَذَا عِلْمًا لَا أَعْلَمُهُ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَمَا غَابَ الشَّفَقُ بِسَاعَةٍ، نَزَلَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَكَانَ لَا يُنَادَى لِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، فَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا جَمَعَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ بِسَاعَةٍ، وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ أَيْنَ تَوَجَّهَتْ بِهِ السُّبْحَةَ فِي السَّفَرِ، وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ" قَالَ: وَقَالَ النَّيْسَابُورِيُّ:" بِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِي السَّفَرِ". اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَأَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ وَعُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ عَلَى أَنَّ جَمْعَ ابْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ كَانَ بَعْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ، وَخَالَفَهُمْ مَنْ لَا يُدَانِيهِمْ فِي حَفِظِ أَحَادِيثِ نَافِعٍ.
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ جب وہ مکہ سے واپس ہوئے تو ان کو سیدہ صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا کی خبر ملی، وہ پھر تیز چلے، جب سورج غروب ہو گیا تو ایک ساتھی نے کہا: نماز! وہ خاموش رہے اور چلتے رہے، پھر ایک ساتھی نے کہا: نماز! وہ پھر خاموش ہو گئے، تو پھر اس سے کہا جس نے کہا تھا نماز: یہ وہ جانتا ہے جس کو میں نہیں جانتا، اور چلتے رہے اور شفق غائب ہونے کے کچھ دیر بعد اترے اور نماز پڑھی، سفر میں نماز کے لیے اذان بھی نہیں دی، پھر مغرب اور عشا دونوں کو جمع کر لیا، پھر فرمایا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر کی جلدی ہوتی تو غروبِ شفق کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشا کو جمع کر لیتے تھے“ اور وہ اپنی سواری پر سفر میں نفل پڑھ لیتے تھے، سواری کا منہ جدھر بھی ہوتا، اور وہ ان کو خبر دے رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔
نوٹ: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شفق کے غروب کے بعد ان دو نمازوں کو جمع کیا ہے، ان کی مخالفت وہ کرتا ہے جس کو نافع کی احادیث یاد نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5515]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5516
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضًا لَهُ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ لِمَا بِهَا، وَلَا أَظُنُّ أَنْ تُدْرِكَهَا، وَذَلِكَ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ: فَخَرَجَ مُسْرِعًا وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ لَمْ يَقُلْ لِيَ الصَّلَاةَ، وَكَانَ عَهْدِي بِصَاحِبِي وَهُوَ مُحَافِظٌ عَلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَبْطَأَ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَرْحَمُكَ اللهُ، فَمَا الْتَفَتَ إِلَيَّ، ثُمَّ مَضَى كَمَا هُوَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَقَدْ تَوَارَى الشَّفَقُ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ الْأَمْرُ صَنَعَ هَكَذَا". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، وَعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَرِوَايَةُ الْحُفَّاظِ مِنْ أَصْحَابِ نَافِعٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ، فَقَدْ رَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَأَسْلَمُ مَوْلَى عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ⦗٢٢٩⦘ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ، وَقِيلَ ابْنُ ذُؤَيْبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَ رِوَايَتِهِمْ، أَمَّا حَدِيثُ سَالِمٍ فَرَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمٍ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلا، وہ اپنی زمین کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے، انہوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا کو مسئلہ ہے اور میرا گمان نہیں کہ آپ ان کو پا لیں، اور یہ عصر کے بعد کا وقت تھا۔ وہ جلدی سے نکلے، ان کے ساتھ ایک قریشی آدمی تھا۔ ہم بھی چلے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور انہوں نے مجھے نماز کا نہیں کہا۔ میں اپنے ساتھی کو ہمیشہ نماز کی بڑی محافظت کرنے والا پاتا تھا۔ جب انہوں نے دیر کی تو میں نے کہا: نماز، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ انہوں نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ پھر چلتے رہے یہاں تک کہ شفق کا آخری حصہ تھا اور وہ اترے، مغرب کی نماز پڑھی، پھر نماز کی اقامت ہوئی اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی جب کہ شفق غائب ہو چکی تھی۔ پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی معاملے کی جلدی ہوتی تو اسی طرح کر لیتے تھے۔
فضیل بن غزوان اور عطاف بن خالد نے بھی نافع سے اسی معنی کی روایت کی ہے، لیکن نافع کے حفاظ شاگردوں کی روایت درستی کے زیادہ قریب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5516]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما معنٰي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5517
وَأَمَّا حَدِيثُ أَسْلَمَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا الصَّغَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَبَلَغَهُ عَنْ صَفِيَّةَ شِدَّةَ وَجَعٍ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ، جَمَعَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ.
زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ ان کو صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا کی سخت بیماری کا پتا چلا تو تیز چلے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی، پھر اتر کر مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور ان دونوں کو جمع کر دیا۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کرتے اور ان دونوں کو جمع کر لیتے“، یعنی عشاء اور مغرب۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5517]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1711»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5518
فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، وَكَانَ مِنْ صَالِحِي الْمُسْلِمِينَ صِدْقًا وَدِينًا قَالَ: غَابَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَسِرْنَا، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قَدْ أَمْسَى قُلْنَا لَهُ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، وَتَصَوَّبَتِ النُّجُومُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ صَلَّى صَلَاتِي هَذِهِ". يَقُولُ:" جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ لَيْلٍ". ⦗٢٣٠⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور وہ نیک اور سچے دیندار مسلمانوں میں سے تھے، انہوں نے فرمایا: سورج غروب ہو گیا اور ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے۔ ہم چلتے رہے۔ جب ہم نے دیکھا شام ہو گئی ہے تو ہم نے کہا: نماز! وہ خاموش رہے یہاں تک کہ شفق بھی غائب ہو گئی اور ستارے چمک گئے۔ وہ اترے اور دونوں نمازوں کو جمع کیا۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر کی جلدی ہوتی تو ان دو نمازوں کو اس طرح پڑھ لیتے، یعنی رات کے بعد ان کو جمع کر لیتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5518]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أبو داؤد 1217»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5519
فَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ:" صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ هِبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ: قُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ". لَفْظُ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ، وَحَدِيثُ الشَّافِعِيِّ أَتَمُّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِيِّ فَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَهِبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ: انْزِلْ فَصَلِّ، فَلَمَّا ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى ثَلَاثًا ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ التَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ". وَقَالَ: عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ.
اسماعیل بن عبد الرحمن بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب سورج غائب ہو گیا تو ہم ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے یہ نہ کہہ سکے کہ نماز کے لیے کھڑے ہوں۔ جب افق کی سفیدی چلی گئی اور شام کا اندھیرا چھا گیا تو وہ اترے اور تین اور دو رکعات پڑھیں۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اسی طرح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث ہے کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چراگاہ کی طرف نکلے تو سورج غروب ہو گیا۔ ہم ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے یہ نہ کہہ سکے کہ اترو اور نماز پڑھو۔ جب کناروں کی سفیدی اور عشا کا اندھیرا ختم ہوا تو وہ اترے اور تین رکعات ادا کیں اور سلام پھیر دیا، پھر دو رکعات ادا کیں اور سلام پھیر دیا۔ پھر ہماری طرف مڑے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5519]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 2/12»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5520
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أَخْبَرَنِي حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى قَالَا: ثنا الْمُفَضَّلُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَقُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج کے ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر اترتے اور ان دونوں کی جمع کر لیتے، اور اگر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو نماز پڑھ کر سوار ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5520]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1060»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں