السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1157. -- باب: الإشارة بالسكوت دون التكلم به
-- باب: بولنے کے بجائے اشارے سے خاموش کرانے کا بیان
حدیث نمبر: Q5837
يُذْكَرُ عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا تَكَلَّمَ رَجُلٌ وَكَانَ مِنْكَ قَرِيبًا فَاغْمِزْهُ، وَإِنْ كَانَ بَعِيدًا فَأَشِرْ إِلَيْهِ".
سیدنا زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کلام کرے اور وہ تمہارے قریب ہو تو اسے ہاتھ سے دباؤ، اور اگر وہ دور ہو تو اسے اشارہ کر کے منع کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: Q5837]
حدیث نمبر: 5837
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنبأ جَدِّي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شَرِيكٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ أَنِ اسْكُتْ، فَسَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْدَ الثَّالِثَةِ:" وَيْحَكَ، مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
شریک فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہوگی؟ لوگوں نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ خاموش ہو جا۔ اس نے تین مرتبہ سوال کیا اور لوگ اس کو اشارہ کر رہے تھے کہ خاموش ہو جا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”افسوس! تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5837]
تخریج الحدیث: «جيد۔ ابن خزيمة 796»
الحكم على الحديث: جيد