السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1189. -- باب: من أسمع الناس تكبير الإمام
-- باب: اس شخص کا بیان جو لوگوں کو امام کی تکبیر سنائے (مکبر کا بیان)
حدیث نمبر: 5935
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ:" اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ ⦗٣٣٩⦘ يُكَبِّرُ لِيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ؛ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ، وَهُمْ قُعُودٌ، فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر لوگوں کو سنا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا، ہم کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”قریب ہے کہ تم فارس و روم والوں کی طرح کرو گے، وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ تم ایسا نہ کرو۔ تم اپنے اماموں کی اقتدا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5935]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5073»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ أَنْ يُصَلِّي أَبُو بَكْرٍ، وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ وَخُرُوجُهُ، قَالَتْ:" فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَآخَرُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ:" أَنْ صَلِّ"، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے جس مرض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابوبکر نماز پڑھائیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ ”نماز پڑھاؤ“۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر لوگوں کو سنا رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5936]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5077»
الحكم على الحديث: صحيح