السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1195. ومن جماع أبواب الهيئة للجمعة -- باب: السنة في إعداد الثياب الحسان للجمعة
جمعہ کی تیاری اور ہیئت کے ابواب کا جامع بیان -- باب: جمعہ کے لیے عمدہ لباس تیار رکھنے کے سنت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ ⦗٣٤٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا كَانَ بِمَكَّةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے پر ایک دھاری دار حلہ دیکھا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حلہ خرید لیں اور اس کو جمعہ اور آنے والے وفود کے لیے پہنیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو وہ زیب تن کرتا ہے جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے۔“ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حلہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ وہ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے پہنا دیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطارد کے حلے کے بارے میں یہ فرمایا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس لیے نہیں دیا تاکہ آپ پہن لیں“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے مشرک بھائی کو، جو مکہ میں رہتا تھا، اس کو پہنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5951]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 846»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5952
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ، أَوْ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ". قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک پر (وسعت ہو) اگر وہ پائے - یا فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک پر جب تم (وسعت) پاؤ تو - جمعہ کے لیے اپنے کام کے کپڑوں کے علاوہ خاص دو کپڑے رکھو۔“ ابن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات منبر پر ارشاد فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5952]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 1072»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ