🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1264. -- باب: صلاة العيدين سنة أهل الإسلام حيث كانوا
-- باب: اہل اسلام جہاں بھی ہوں عیدین کی نماز ان کا طریقہ (سنت) ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، وَعِمْرَانُ قَالَ: ثنا أَبُو سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ:" صَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَالْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَالْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، وَالْمُسَافِرِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ"، عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عُمَرَ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ایک بااعتماد شخص سے نقل فرماتے ہیں، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”نمازِ عید الاضحیٰ، فطر اور جمعہ کی دو دو رکعات ہیں اور مسافر کے لیے مکمل نماز دو رکعت ہے، قصر نہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ العِيدَيْنِ/حدیث: 6236]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5718»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيَّانِ بِهَا قَالَا: ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ خَادِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ أَنَسٌ إِذَا فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعِيدِ مَعَ الْإِمَامِ جَمَعَ أَهْلَهُ فَصَلَّى بِهِمْ مِثْلَ صَلَاةِ الْإِمَامِ فِي الْعِيدِ".
عبید اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے جب نمازِ عید امام سے رہ جاتی تو وہ اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ویسے ہی نماز پڑھاتے جیسے امام عید کی نماز پڑھاتا ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا کہ جب وہ اپنے گھر ”زاویہ“ میں ہوتے اور بصرہ میں عید کے لیے حاضر نہ ہوتے تو وہ اپنے غلاموں اور بیٹوں کو جمع کرتے، پھر اپنے غلام عبداللہ بن ابی عتبہ کو حکم دیتے، وہ شہر والوں کی طرح ان کو نماز پڑھاتے اور ان کی تکبیروں کی طرح تکبیر کہتے۔ اور حسن بصری رحمہ اللہ سے مسافر کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاشت کے وقت کو پا لے تو وہ رک جائے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پھر دو رکعت نماز پڑھے، پھر اگر نمازِ چاشت پڑھنی ہے تو پڑھ لے۔
عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ سواد والے عید میں جمع ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی جیسے امام کرتا ہے؛ اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ پسند کرتے تھے کہ جب آدمی سے عیدین کی نماز رہ جائے تو وہ ”جبان“ جا کر ویسے ہی نماز پڑھے جیسے امام پڑھتا ہے؛ اور عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نمازِ عید رہ جائے تو دو رکعت نماز ادا کرے، لیکن ان دونوں میں تکبیر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ العِيدَيْنِ/حدیث: 6237]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں