السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1378. -- باب: غسل المرأة زوجها
-- باب: عورت کا اپنے شوہر کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6663
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ سَنَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَوْصَى أَنْ تُغَسِّلَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ امْرَأَتُهُ، وَأَنَّهَا ضَعُفَتْ فَاسْتَعَانَتْ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ". وَهَذَا الْحَدِيثُ الْمَوْصُولُ وَإِنْ كَانَ رَاوِيَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ صَاحِبُ التَّارِيخِ وَالْمَغَازِي فَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَلَهُ شَوَاهِدُ مَرَاسِيلُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ غَسَّلَتْ زَوْجَهَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْصَى بِذَلِكَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات فوت ہوئے، جمادی الآخرہ کی آٹھ راتیں باقی تھیں اور تیرہ ہجری تھی، انہوں نے وصیت کی کہ انہیں غسل سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا دیں جو ان کی بیوی تھیں اور تب وہ کمزور ہو چکی تھیں اس لیے ان کا تعاون سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔
یہ موصول حدیث، جبکہ اس کا راوی محمد بن عمر واقدی (صاحب تاریخ و مغازی) ہے، قوی نہیں ہے۔ اس کے کچھ مرسل شواہد ابن ابی ملیکہ سے، اور عطاء بن ابی رباح سے سعد بن ابراہیم سے ہیں کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غسل دیا، اور بعض نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی وصیت کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6663]
یہ موصول حدیث، جبکہ اس کا راوی محمد بن عمر واقدی (صاحب تاریخ و مغازی) ہے، قوی نہیں ہے۔ اس کے کچھ مرسل شواہد ابن ابی ملیکہ سے، اور عطاء بن ابی رباح سے سعد بن ابراہیم سے ہیں کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غسل دیا، اور بعض نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی وصیت کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6663]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رَحِمَ اللهُ امْرَأً غَسَّلَتْهُ امْرَأَتُهُ، وَكُفِّنَ فِي أَخْلَاقِهِ". قَالَتْ: فَفُعِلَ ذَلِكَ بِأَبِي بَكْرٍ، غَسَّلَتْهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ الْأَشْجَعِيَّةُ، وَكُفِّنَ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي كَانَ يَبْتَذِلُهَا. هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جسے اس کی بیوی نے غسل دیا اور وہ اپنے پرانے کپڑوں میں کفن دیا گیا۔“ وہ کہتی ہیں کہ ایسا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا، انہیں غسل ان کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے دیا اور کفن انہیں کپڑوں میں دیا گیا جو انہوں نے پرانے کر لیے تھے۔
یہ سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6664]
یہ سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6664]
تخریج الحدیث: «باطل»
الحكم على الحديث: باطل
حدیث نمبر: 6665
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَتَلَهَّفَتْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَا يُتَلَهَّفُ إِلَّا عَلَى مَا يَجُوزُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر مجھے اپنے معاملے کا وہ پہلے معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے علاوہ کوئی غسل نہ دیتا۔
شیخ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس پر حسرت کا اظہار کیا اور حسرت صرف اسی بات پر کی جاتی ہے جو جائز ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6665]
شیخ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس پر حسرت کا اظہار کیا اور حسرت صرف اسی بات پر کی جاتی ہے جو جائز ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6665]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: حسن