السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1381. -- باب: المرأة تموت مع الرجال، ليس معهم امرأة
-- باب: عورت مردوں کے درمیان فوت ہو جائے اور ان کے ساتھ کوئی (دوسری) عورت نہ ہو
حدیث نمبر: 6669
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَاتَتِ الْمَرْأَةُ مَعَ الرِّجَالِ لَيْسَ مَعَهُمُ امْرَأَةٌ غَيْرُهَا، وَالرَّجُلُ مَعَ النِّسَاءِ لَيْسَ مَعَهُنَّ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُمَا يُتَيَمَّمَانِ وَيُدْفَنَانِ، وَهُمَا بِمَنْزِلَةِ مَنْ لَا يَجِدُ الْمَاءَ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَرُوِي عَنْ سِنَانِ بْنِ غَرْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ مَعَ النِّسَاءِ، وَالْمَرْأَةِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا مَحْرَمٌ" يُتَيَّمَّمَانِ بِالصَّعِيدِ وَلَا يُغَسَّلَانِ".
مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی عورت مردوں کے ساتھ فوت ہو جائے اور اس کے علاوہ ان کے ساتھ دوسری عورت نہ ہو یا پھر مرد اکیلا عورتوں کے ساتھ ہو اور ان کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ ہو تو اس صورت میں ان دونوں کو تیمم کروا کے دفن کر دو اور وہ اس کے حکم میں ہیں جن کے پاس پانی نہ ہو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
سنان بن غرفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ اکیلا تھا اور وہ فوت ہو گیا یا ایسے ہی عورت مردوں کے ساتھ اور اس کا کوئی محرم ساتھ نہیں تو ان کو مٹی کے ساتھ تیمم کروایا جائے گا اور غسل نہیں دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6669]
یہ روایت مرسل ہے۔
سنان بن غرفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ اکیلا تھا اور وہ فوت ہو گیا یا ایسے ہی عورت مردوں کے ساتھ اور اس کا کوئی محرم ساتھ نہیں تو ان کو مٹی کے ساتھ تیمم کروایا جائے گا اور غسل نہیں دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6669]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6670
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي الْمَرْأَةِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ لَيْسَ مَعَهُمُ امْرَأَةٌ، قَالَ:" تُرْمَسُ فِي ثِيَابِهَا". وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ:" تُيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ"، وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ" يُصَبُّ عَلَيْهَا الْمَاءُ مِنْ فَوْقِ الثِّيَابِ" وَكَذَا قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ.
نافع عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں اس عورت کے بارے میں جو مردوں کے ساتھ مر جائے اور ان کے ساتھ دوسری عورت نہ ہو تو وہ کپڑوں میں ہی دفن کر دی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6670]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف