السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1411. -- باب: كفن المرأة
-- باب: عورت کے کفن کا بیان
حدیث نمبر: 6770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ أَبِي تَمِيمَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي"، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" قَالَ: وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أِيَّ بَنَاتِهِ وَزَعَمَ أَنَّ الْإِشْعَارَ: الْفِفْنَهَا فِيهِ، قَالَ: وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ: يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ لِفَافَةً وَلَا تُؤْزَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ، اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو تو، اور یہ پانی اور بیری کے پتوں سے کرو اور آخر میں کافور ملانا۔“ جب ہم اس سے فارغ ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہماری طرف پھینکی اور فرمایا: ”اسے اس میں کفن دینا۔“
راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے زیادہ بیان نہیں کیا، اور کہا: میں نہیں جانتا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں، اور ان کا خیال تھا کہ «إِشْعَار» کا مطلب ہے: اسے اس میں لپیٹ دو۔ اور کہا: ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی حکم دیا کرتے تھے کہ عورت کو اندرونی لفافے میں لپیٹا جائے اور اسے تہبند نہ باندھا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6770]
راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے زیادہ بیان نہیں کیا، اور کہا: میں نہیں جانتا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں، اور ان کا خیال تھا کہ «إِشْعَار» کا مطلب ہے: اسے اس میں لپیٹ دو۔ اور کہا: ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی حکم دیا کرتے تھے کہ عورت کو اندرونی لفافے میں لپیٹا جائے اور اسے تہبند نہ باندھا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَطِيَّةَ مِنَ اللَّوَاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، فَحَدَّثَتْنَا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ:" أَشْعِرْنَهَا اتَّزِرْنَ بِهِ؟ قَالَ: لَا أَرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ: الْفِفْنَهَا فِيهِ، قَالَ أَيُّوبُ: وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ لِفَافَةً.
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: جن صحابیات رضی اللہ عنہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، ان میں سے ایک ام عطیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، یہ بصرہ آئی تھیں اپنے بیٹے کو ڈھونڈتی ہوئی مگر اسے نہ پا سکیں، وہ کہتے ہیں: میں نے اس قول «أَشْعِرْنَهَا» ”اسے (بطورِ شعار) پہنا دو“ کے بارے میں پوچھا: اس سے مراد یہ ہے کہ اسے کمر سے باندھ دیا جائے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اسے اس میں لپیٹ دیں
ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی عورت کے بارے میں حکم دیا کرتے تھے کہ اسے غلاف کی مانند لپیٹ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6771]
ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی عورت کے بارے میں حکم دیا کرتے تھے کہ اسے غلاف کی مانند لپیٹ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6771]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6772
وَقَالَ: ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: مَا ⦗١٠⦘ قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَازَرُ بِهِ، قَالَ:" لَا أَظُنُّ، كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ تُلَفُّ بِثَوْبٍ تَحْتَ الدِّرْعِ وَلَا أَرَاهُ إِلَّا ذَلِكَ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، ثنا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، فَذَكَرَهُ.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایوب رحمہ اللہ سے پوچھا: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» کا کیا مطلب ہے، کیا اسے تہبند کے طور پر باندھا جائے؟ انہوں نے کہا: میرا یہ خیال نہیں، ابن سیرین رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”اسے درع (قمیص) کے نیچے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے“ اور میں اس کا یہی مطلب سمجھتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6772]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6773
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ، وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ قَدْ وَلَدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، عَنْ لَيْلَى بِنْتِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ، قَالَتْ:" كُنْتُ فِي مَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومِ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ وَفَاتِهَا، فَكَانَ أَوَّلُ مَا أَعْطَانَا الْحِقَاءَ، ثُمَّ الدِّرْعَ، ثُمَّ الْخِمَارَ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةَ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ"، قَالَتْ:" وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ مُعِدٌّ كَفَنَهَا يُنَاوِلُنَاهُ ثَوْبًا ثَوْبًا".
لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں بھی ان میں تھی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو غسل دیا جب وہ فوت ہوئیں۔ سب سے پہلی چیز جو ہمیں دی وہ چادر تھی، پھر قمیص، پھر اوڑھنی، پھر لیٹنے والی چادر، پھر اس کے بعد دوسرے کپڑے میں رکھا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے پاس بیٹھے تھے اور تیار کیا ہوا کفن ایک ایک ہمیں دے رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6773]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف