🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1417. -- باب: ذكر رواية من روى أنه صلى عليهم بعد ثمان سنين توديعا لهم
-- باب: ان حضرات کی روایت کا ذکر جنہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ نے آٹھ سال بعد انہیں رخصت کرنے کے لیے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6809
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحَدٍ صَلَاتَهَ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" إِنِّي فَرَطُكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، إنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ الْآنَ إِلَى حَوْضِي وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ خَزَائِنَ مَفَاتِيحِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور شہدائے احد پر نماز پڑھی جیسے نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف پلٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں، اللہ کی قسم! اب میں حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور بے شک میں زمین کے خزانوں کی چابیاں دیا گیا ہوں (یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی چابیاں فرمایا) اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ میں ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6809]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6810
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:" إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَمَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا" قَالَ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ بِمَعْنَى رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ عُقْبَةُ:" فَكَانَ آخِرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد مقتولینِ احد کی نماز جنازہ پڑھائی، جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو الوداع کرنے والا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”بیشک میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور تمہارا وعدہ حوض پر ہے اور میں اسے اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں اور میں تم پر اس سے نہیں ڈرتا کہ تم شرک کرو گے، لیکن میں تو تم پر ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔“ اور یہ آخری نظر تھی جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالی۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آخری مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6810]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں