السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1444. -- باب: ذكر الخبر الوارد في النهي عن الدفن بالليل والبيان أن المراد به كيلا تفوته الصلاة على الجنازة
-- باب: رات کے وقت دفن کرنے کی ممانعت کے بارے میں وارد شدہ حدیث کا ذکر اور اس بات کا بیان کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کہیں اس کی نماز جنازہ فوت نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 6917
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اپنے صحابہ میں سے ایک کا تذکرہ کیا جو فوت ہو گیا اور اسے کوئی عمدہ کفن نہ دیا گیا اور رات ہی میں دفن کر دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا اور فرمایا: ”جب تک جنازہ نہ پڑھا جائے رات کو دفن نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی مجبوری ہو“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6918
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَلْتَقِطُ الْخِرَقَ وَالْعِيدَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" أَيْنَ فُلَانَةُ"، قَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ:" أَفَلَا آذَنْتُمُونِي"، قَالُوا مَاتَتْ مِنَ اللَّيْلِ وَدُفِنَتْ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا وَقَالَ:" إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا تَدَعُوا أَنْ تُؤْذِنُونِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کالی عورت کو گم پایا جو مسجد سے تنکے وغیرہ اٹھاتی اور صفائی کرتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں عورت کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ فوت ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟“ انہوں نے کہا: وہ رات کو فوت ہوئی تھی اور دفن کر دی گئی۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر گئے اور نمازِ جنازہ پڑھی اور فرمایا: ”جب مسلمانوں میں سے کوئی فوت ہو جائے تو مجھے ضرور اطلاع کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: حسن