السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1456. -- باب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الجنازة
-- باب: نماز جنازہ میں نبی ﷺ پر درود پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6962
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَكَانَ مِنْ كُبَرَاءِ الْأَنْصَارِ وَعُلَمَائِهِمْ وَمِنْ أَبْنَاءِ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي" الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَنْ يُكَبِّرَ الْإِمَامُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْلِصُ الصَّلَاةَ فِي التَّكْبِيرَاتِ الثَّلَاثِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا خَفِيفًا حِينَ يَنْصَرِفُ، وَالسُّنَّةُ أَنْ يَفْعَلَ مَنْ وَرَاءَهُ مِثْلَ مَا فَعَلَ إِمَامُهُ" قَالَ الزُّهْرِيُّ:" حَدَّثَنِي بِذَلِكَ أَبُو أُمَامَةَ، وَابْنُ الْمُسَيِّبِ يَسْمَعُ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَذَكَرْتُ الَّذِي أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ لِمُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ، فَقَالَ: وَأَنَا سَمِعْتُ الضَّحَّاكَ ابْنَ قَيْسٍ يُحَدِّثُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ فِي صَلَاةٍ صَلَّاهَا عَلَى الْمَيِّتِ مِثْلَ الَّذِي حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ.
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ رضی اللہ عنہم نے خبر دی کہ نمازِ جنازہ میں امام تکبیر کہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے اور تین تکبیرات میں خالص دعا کرے، پھر ہلکا سا سلام پھیرے، جب وہ پھرے اور سنت یہی ہے کہ پیچھے والے ویسے ہی کریں جیسے امام نے کیا۔
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور ابن مسیب رحمہ اللہ سن رہے تھے، تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میت پر نماز کے بارے میں جو سنت مجھے ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، میں نے اس کا تذکرہ محمد بن سوید رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے نمازِ جنازہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں: اسی طرح جیسے ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6962]
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور ابن مسیب رحمہ اللہ سن رہے تھے، تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میت پر نماز کے بارے میں جو سنت مجھے ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، میں نے اس کا تذکرہ محمد بن سوید رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے نمازِ جنازہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں: اسی طرح جیسے ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6962]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6963
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَائِنِيُّ بِهَا، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ، فَقَالَ:" أَنَا وَاللهِ أُخْبِرُكَ تَبْدَأُ فَتُكَبِّرُ، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: اللهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ فُلَانًا كَانَ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ اللهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نمازِ جنازہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں خبر دوں گا جب تو آغاز کرے گا، تو تکبیر کہے گا، پھر تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے گا اور تو کہے گا: «اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ فُلَانًا كَانَ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! یہ تیرا فلاں بندہ تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو خوب جانتا ہے اگر وہ نیک تھا تو اس کی نیکی میں اضافہ فرما اور اگر وہ خطا وار ہے تو اس سے تجاوز کر، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کرنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6963]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح