السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1508. -- باب: ما ورد في دخولهن في عموم قوله فزوروها
-- باب: آپ ﷺ کے فرمان ”پس تم ان کی زیارت کیا کرو“ کے عموم میں عورتوں کے شامل ہونے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 7207
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَقْبَلَتْ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْمَقَابِرِ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ؟ قَالَتْ:" مِنْ قَبْرِ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ" فَقُلْتُ لَهَا: أَلَيْسَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ؟ قَالَتْ" نَعَمْ كَانَ نَهَى ثُمَّ أَمَرَ بِزِيَارَتِهَا" تَفَرَّدَ بِهِ بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قبرستان کی طرف سے تشریف لا رہی تھیں۔ میں نے عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ فرمانے لگیں: اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر گئی تھی۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبروں کی زیارت سے منع“ نہیں فرمایا تھا؟ کہنے لگیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، لیکن بعد میں ان کی زیارت کا حکم دے دیا تھا۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں بسطام بن مسلم بصری منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7207]
اس روایت کو بیان کرنے میں بسطام بن مسلم بصری منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7208
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حُمَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْعَدْلُ بِالطَّابِرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَزُورُ قَبْرَ عَمِّهَا حَمْزَةَ كُلَّ جُمُعَةٍ فَتُصَلِّي وَتَبْكِي عِنْدَهُ. كَذَا قَالَ وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ دُونَ ذِكْرِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ فِيهِ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِّيَنَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ لَهَا:" اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي" وَلَيْسَ فِي الْخَبَرِ أَنَّهُ نَهَاهَا عَنِ الْخُرُوجِ إِلَى الْمَقْبَرَةِ وَفِي ذَلِكَ تَقْوِيَةٌ لِمَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا أَنَّ أَصَحَّ مَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ صَرِيحًا حَدِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ وَمَا يُوَافِقُهُ مِنَ الْأَخْبَارِ فَلَوْ تَنَزَّهْنَ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَالْخُرُوجِ إِلَى الْمَقَابِرِ وَزِيَارَةِ الْقُبُورِ كَانَ أَبْرَأَ لِدِينِهِنَّ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ کے روز اپنے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتیں، ان کے لیے دعائے مغفرت کرتیں اور آنسو بہاتیں۔
یہ روایت (سلیمان بن داود عن ابیہ عن جعفر بن محمد عن ابیہ کی سند سے) علی بن حسین عن ابیہ کے ذکر کے بغیر بھی بیان کی گئی ہے اور وہ منقطع ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر پر رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس میں یہ خبر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبرستان کی طرف نکلنے سے منع کیا اور اس میں اس کی تقویت ہے جو حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بیان ہوا۔ مگر اس بارے میں صراحت کے ساتھ سب سے صحیح روایت سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور اس کے موافق روایات ہیں، اگر عورتیں جنازوں کے پیچھے جانے، قبرستان کی طرف نکلنے اور زیارتِ قبور سے بچتیں تو یہ ان کے دین کے لیے زیادہ محفوظ ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7208]
یہ روایت (سلیمان بن داود عن ابیہ عن جعفر بن محمد عن ابیہ کی سند سے) علی بن حسین عن ابیہ کے ذکر کے بغیر بھی بیان کی گئی ہے اور وہ منقطع ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر پر رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس میں یہ خبر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبرستان کی طرف نکلنے سے منع کیا اور اس میں اس کی تقویت ہے جو حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بیان ہوا۔ مگر اس بارے میں صراحت کے ساتھ سب سے صحیح روایت سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور اس کے موافق روایات ہیں، اگر عورتیں جنازوں کے پیچھے جانے، قبرستان کی طرف نکلنے اور زیارتِ قبور سے بچتیں تو یہ ان کے دین کے لیے زیادہ محفوظ ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7208]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف