السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1522. -- باب: لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول
-- باب: کسی مال میں زکوٰۃ نہیں یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جائے
حدیث نمبر: 7273
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَسُمِّيَ آخَرُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" هَاتُوا لِي رُبْعَ الْعُشُورِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ إِلَّا أَنَّ جَرِيرًا قَالَ فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَلَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس چوتھائی عشر لاؤ۔“ پھر پوری حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں بیان کیا کہ ”اس مال میں زکوۃ نہیں جس پر سال نہ گزر جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7273]
تخریج الحدیث: «حسن۔ مضي تخريجه»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7274
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ قَالَا أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَارِثَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ وَأَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ حَارِثَةَ مَرْفُوعًا. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ حَارِثَةَ مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ، وَحَارِثَةُ لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ، وَالِاعْتِمَادُ فِي ذَلِكَ عَلَى الْآثَارِ الصَّحِيحَةِ فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کسی مال میں زکوۃ نہیں جب تک پورا سال نہ گزر جائے۔“
ابومعاویہ، ہریم بن سفیان اور ابوکدینہ نے بھی اسے حارثہ سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، جبکہ ثوری نے اسے حارثہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ حارثہ کی روایت قابلِ حجت نہیں، اس مسئلے میں اعتماد ان صحیح آثار پر ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7274]
ابومعاویہ، ہریم بن سفیان اور ابوکدینہ نے بھی اسے حارثہ سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، جبکہ ثوری نے اسے حارثہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ حارثہ کی روایت قابلِ حجت نہیں، اس مسئلے میں اعتماد ان صحیح آثار پر ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7274]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد