🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1537. -- باب: صدقة الخلطاء
-- باب: شرکاء (اکٹھے مال رکھنے والوں) کی زکوٰۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7329
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ ⦗١٧٧⦘ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ: هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ:" لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ. قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ: وَيُذْكَرُ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے تحریر کیا کہ یہ زکاۃ کا وہ فریضہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ”جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے اور یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے زکاۃ کے ڈر سے اور جو شراکت دار ہیں وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7329]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم تخريجه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7330
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ، فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ، ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ فِيهِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ وَصَدَقَةِ الْغَنَمِ وَقَالَ:" وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ" وَرُوِّينَاهُ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ..
امام زہری سالم رحمہ اللہ سے اور وہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا نصاب تحریر کیا اور اسے ابھی اپنے عمال کی طرف نہیں نکالا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، تو اس تحریر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے نافذ کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، پھر اسی پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا، یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے۔ انہوں نے اونٹوں کی زکوٰۃ کی حدیث بیان کی اور بکریوں کی زکوٰۃ کی بھی اور فرمایا: ”اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے زکوٰۃ کے خوف سے اور جو شراکت دار ہیں وہ آپس میں برابری کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7330]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ معني تخريجه»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7331
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، حَدَّثَنِي النُّفَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسِبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي زَكَاةِ الْوَرِقِ وَالْغَنَمِ وَالْإِبِلِ إِلَى أَنْ قَالَ:" فَإِذَا ⦗١٧٨⦘ زَادَتْ وَاحِدَةً يَعْنِي عَلَى التِّسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ كَذَا وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں، اور انھوں نے حدیث بیان کی اور چاندی، بکری اور اونٹوں کی زکوۃ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ”اگر ایک بھی نوے سے زیادہ ہو جائے تو اس میں دو حقے ہیں سانڈ کو قبول کرنے والے ایک سو بیس تک۔ اگر اونٹ اس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں اتنا اتنا ہے اور یکجا چرنے والوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والوں کو یکجا نہ کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7331]
تخریج الحدیث: «حسن۔ معني تخريجه»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ قَالَ:" وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ".
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے پاس پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی تحریر میں پڑھا کہ: ”جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے اور نہ ہی یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے زکاۃ کے خوف سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7332]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ معني تخريجه»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7333
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ زَمَانًا فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ فِي الصَّدَقَةِ وَالْخَلِيطَانِ مَا اجْتَمَعَ عَلَى الْفَحْلِ وَالرَّاعِي وَالْحَوْضِ".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک عرصہ رہا، میں نے ان سے صرف ایک ہی حدیث سنی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یکجا کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا کو یکجا نہ کیا جائے زکوۃ میں اور ”مشترک“ وہ ہیں جو سانڈ، حوض اور چرواہے میں اکٹھی ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7333]
تخریج الحدیث: «منكر۔ دار قطني»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7334
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُ، قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" مَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ" قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ مَا يَعْنِي بِالْخَلِيطَيْنِ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الْمُرَاحُ وَاحِدًا وَالرَّاعِي وَاحِدًا وَالدَّلْوُ وَاحِدًا.
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”جو شراکت دار ہیں، وہ آپس میں زکوۃ کا حصہ برابر برابر تقسیم کریں گے۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے عبید اللہ سے کہا: «الْخَلِيطَيْنِ» ”دو شریکوں“ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: جن کا باڑہ ایک ہو، چرواہا ایک ہو اور ڈول بھی ایک ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7334]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7335
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: قَدِمَ الْحَسَنُ مَكَّةَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ أَرْبَعِينَ شَاةً بَيْنَ رَجُلَيْنِ قَالَ:" فِيهَا شَاةٌ".
حمید نے بیان کیا کہ حسن رحمہ اللہ مکہ آئے تو انہوں نے ان سے ان چالیس بکریوں کے بارے میں پوچھا جو دو آدمیوں کی ہوں، انہوں نے کہا: ان میں ایک بکری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7335]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7336
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ النَّفَرِ الْخُلَطَاءِ لَهُمْ أَرْبَعُونَ شَاةً، قَالَ:" عَلَيْهِمْ شَاةٌ"، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَتْ لِوَاحِدٍ تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ وَلِآخَرَ شَاةٌ قَالَ:" عَلَيْهِمَا شَاةٌ".
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے اس ریوڑ کے بارے میں پوچھا جس میں مشترکہ چالیس بکریاں ہوں تو انہوں نے کہا: اس میں ایک بکری ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اگر ایک کی انتالیس ہوں اور ایک کی ایک بکری تو انہوں نے کہا: ان پر ایک ہی بکری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7336]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه دار قطني»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں