السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1556. -- باب: من رأى في الخيل صدقة.
-- باب: ان ائمہ کا بیان جو گھوڑوں میں زکوٰۃ واجب ہونے کے قائل ہیں۔
حدیث نمبر: 7418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجُوَيْنِيُّ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ السِّنْدِيِّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ⦗٢٠١⦘ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ، أنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْوَعِيدِ الَّذِي جَاءَ فِي مَنْعِ حَقِّهَا وَحَقِّ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ، وَذَكَرَ فِي الْإِبِلِ وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، ثُمَّ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ: فَالْخَيْلُ؟ قَالَ:" الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللهِ فِي ظُهُوَرِهَا وَلَا رِقَابِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ وَالرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ وَكُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ وَلَا تَقْطَعُ طُولَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٍ، وَلَأَمَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْحُمُرُ؟ قَالَ:" مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ"} [الزلزلة: ٨] . رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ وَرَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ فَقَالَ: فِي الْحَدِيثِ وَلَا يَنْسَى حَقَّ اللهِ فِي ظُهُوَرِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَذَلِكَ لَا يَدُلُّ عَلَى الزَّكَاةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی سونے یا چاندی والا اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا۔۔۔“ پھر اس میں وعید کی حدیث بیان کی اور اس کے منع کرنے کا حق اور اونٹ، گائے اور بکری کے حقوق بیان کیے اور اونٹ کے حق میں بیان کیا کہ اس کا دوہنا وارد ہونے کے دن ہے۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! گھوڑا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑا تین طرح کا ہے: یہ آدمی کے لیے بوجھ بھی ہے، اجر بھی ہے اور پردہ بھی۔ وہ جس کے لیے بوجھ ہے وہ ہے جسے آدمی نے دکھاوے اور فخر کے لیے باندھا اور اسلام کے خلاف مدد کے لیے، یہ اس کے لیے بوجھ ہے اور جو باعثِ پردہ ہے یہ وہ ہے جسے آدمی نے اللہ کی راہ میں باندھا، پھر اس کی پیٹھ میں اللہ کے حق کو نہ بھولا اور نہ ہی اس کی گردن میں تو یہ اس کے لیے پردہ ہے اور وہ جو اس کے لیے باعثِ اجر ہے، یہ وہ ہے جسے آدمی نے اللہ کی راہ میں اہل اسلام کے لیے چراگاہ میں باندھا، سو جو کچھ بھی وہ اس چراگاہ سے کھائے گا اس کے عوض اس کے لیے اسی قدر نیکیاں لکھی جائیں گی، حتیٰ کہ اس کے بول و براز کی بھی نیکیاں ہوں گی اور وہ توڑ کر اپنی رسی کو ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھتا ہے تو اس کے قدموں کے نشانات اور بول و براز کی بھی نیکیاں ہوں گی اور نہیں گزرتا اس کا مالک اس کے ساتھ کسی نہر سے مگر وہ اس سے پی لیتا ہے حالانکہ مالک کے پلانے کی نیت نہیں تھی، مگر اللہ سبحانہ اتنی ہی جو اس نے پیا نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھتا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ گدھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر گدھے کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی، سوائے اس جامع آیت کے: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] ۔“
ایک روایت میں ہے کہ وہ اللہ کا حق اس کی پیٹھ اور پیٹ میں نہ بھولا اور نہ ہی تنگی و آسانی میں اور یہ بات زکوۃ پر دلالت نہیں کرتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7418]
ایک روایت میں ہے کہ وہ اللہ کا حق اس کی پیٹھ اور پیٹ میں نہ بھولا اور نہ ہی تنگی و آسانی میں اور یہ بات زکوۃ پر دلالت نہیں کرتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7418]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7419
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْإِصْطَخْرِيُّ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بَحْرٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ⦗٢٠٢⦘ الْإِصْطَخْرِيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ غُورَكِ بْنِ الْحَصْرَمِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الْخَيْلِ السَّائِمَةِ فِي كُلِّ فَرَسٍ دِينَارٌ". تَفَرَّدَ بِهِ غُورَكُ هَذَا، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: تَفَرَّدَ بِهِ غُورَكُ عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمَنْ دُونَهُ ضُعَفَاءُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرنے والے گھوڑوں کے بارے میں فرمایا: ”ہر گھوڑے میں ایک دینار ہے۔“
اسے صرف غورک نے روایت کیا ہے۔ علی بن عمر حافظ (دارقطنی) رحمہ اللہ نے کہا: جعفر سے اسے روایت کرنے میں غورک منفرد ہے، وہ بہت زیادہ ضعیف ہے اور اس سے نیچے کے راوی بھی ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7419]
اسے صرف غورک نے روایت کیا ہے۔ علی بن عمر حافظ (دارقطنی) رحمہ اللہ نے کہا: جعفر سے اسے روایت کرنے میں غورک منفرد ہے، وہ بہت زیادہ ضعیف ہے اور اس سے نیچے کے راوی بھی ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7419]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 7420
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ، أَنَّ حِيَّ بْنَ يَعْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ يَعْلَى قَالَ: ابْتَاعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمَيَّةَ أَخُو يَعْلَى مِنْ رَجُلٍ فَرَسًا أُنْثَى بِمِائَةِ قَلُوصٍ فَبَدَا لَهُ فَنَدِمَ الْبَائِعُ، فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ يَعْلَى وَأَخَاهُ غَصَبَانِي فَرَسِي، فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ" أَنِ الْحَقْ بِي"، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْخَيْلَ لَتَبْلُغُ هَذَا عِنْدَكُمْ"، قَالَ: مَا عَلِمْتُ فَرَسًا قَبْلَ هَذِهِ بَلَغَ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ:" فَنَأْخُذُ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةً، وَلَا نَأْخُذُ مِنَ الْخَيْلِ شَيْئًا، خُذْ مِنْ كُلِّ فَرَسٍ دِينَارًا"، قَالَ: فَضَرَبَ عَلَى الْخَيْلِ دِينَارًا دِينَارًا. وَقَدْ رُوِّينَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِذَلِكَ حِينَ أَحَبَّهُ أَرْبَابُهَا، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ إِنْ صَحَّتْ تَكُونُ مَحْمُولَةً عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ لَا تَتَّفِقُ الرِّوَايَاتُ وَلَا تَخْتَلِفُ، وَحَدِيثُ عِرَاكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ وَهُوَ يَقْطَعُ بِنَفْيِ الصَّدَقَةِ عَنْهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
یعلیٰ کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے سو اونٹنیوں (قلوص) کے عوض گھوڑی خریدی۔ پھر اس پر کوئی بات واضح ہوئی تو بیچنے والا پریشان ہوا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ یعلیٰ اور ان کے بھائی نے میری گھوڑی چھین لی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ کی طرف خط لکھا کہ تم مجھ سے ملاقات کرو۔ وہ آئے اور آنے کی خبر دی تو انہوں نے کہا: تمہارے پاس گھوڑے اس مقدار کو پہنچ چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ وہ گھوڑے اس سے پہلے پہنچے ہیں یا نہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم تو ہر چالیس بکریوں میں سے ایک بکری لیں گے اور گھوڑے سے کچھ بھی نہیں لیں گے، لہٰذا تم ہر گھوڑے سے ایک دینار وصول کرو، تو انہوں نے ایک گھوڑے پر ایک دینار مقرر کر دیا۔
اور اس بات میں ہم نے اس سے پہلے بیان کیا جس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم دیا جب اس کے مالکوں نے پسند کیا۔ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اسے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا تاکہ روایات میں موافقت ہو اور اختلاف نہ رہے، اور عراک کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث اس بارے میں مروی روایات میں سب سے زیادہ صحیح ہے اور وہ گھوڑوں سے زکاۃ کی قطعی نفی کرتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7420]
اور اس بات میں ہم نے اس سے پہلے بیان کیا جس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم دیا جب اس کے مالکوں نے پسند کیا۔ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اسے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا تاکہ روایات میں موافقت ہو اور اختلاف نہ رہے، اور عراک کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث اس بارے میں مروی روایات میں سب سے زیادہ صحیح ہے اور وہ گھوڑوں سے زکاۃ کی قطعی نفی کرتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7420]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: ضعيف