السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1567. -- باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر.
-- باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَيْسَ فِي الْخُضَرِ وَالْبُقُولِ صَدَقَةٌ". تَابَعَهُ الْأَجْلَحُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِيمَا ذَكَرَتْ أَنَّ السُّنَّةَ جَرَتْ بِهِ وَلَيْسَ فِيمَا نَبَتَتِ الْأَرْضُ مِنَ الْخُضَرِ زَكَاةٌ.
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہری ترکاریوں اور سبزیوں میں زکوٰۃ نہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ اس میں سنت جاری ہو چکی کہ زمین جو سبزیاں وغیرہ اگاتی ہے اس میں زکوٰۃ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7484]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ اس میں سنت جاری ہو چکی کہ زمین جو سبزیاں وغیرہ اگاتی ہے اس میں زکوٰۃ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7484]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن شيبه»
الحكم على الحديث: ضعيف