🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1577. -- باب: وجوب ربع العشر في نصابها وفيما زاد عليه وإن قلت الزيادة.
-- باب: چاندی کے نصاب میں اور اس سے زائد مقدار میں ربع عشر (چالیسواں حصہ) کے واجب ہونے کا بیان، خواہ وہ زیادتی کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7521
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ حَدَّثَنِي النُّفَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسِبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّهُ قَالَ:" هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَكِنْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَا دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے مگر زہیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چوتھائی عشر لاؤ، یعنی ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم، لیکن جب تک وہ دو سو درہم نہ ہو جائیں، تم پر کچھ زکاۃ نہیں۔ سو جب دو سو درہم ہو جائیں تو اس میں سے پانچ درہم ادا کرنا ہوں گے۔ اسی حساب سے زکاۃ ادا کی جائے گی جس قدر بھی زیادہ ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7521]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ معني تخريجه»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7522
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" مَا زَادَ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَبِالْحِسَابِ".
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو مقدار اس سے زیادہ ہو گی اسی حساب سے اس کی زکاۃ ادا کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7522]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7523
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالُونُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ:" مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ ⦗٢٢٨⦘ مُحَمَّدِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا فَذَكَرَ أَحْكَامًا قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: لَا صَدَقَةَ فِي تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ حَتَّى يَبْلُغَ خَرْصُ التَّمْرِ أَوْ مَكِيلَةُ الْحَبِّ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا لَا يَرَوْنَ الزَّكَاةَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْفَوَاكِهِ إِلَّا فِي الْعِنَبِ إِذَا بَلَغَ خُرْصُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا يَرَوْنَ فِي كُلِّ نَيِّفٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالتَّمْرِ وَالْحَبِّ وَالْعِنَبِ صَدَقَةً، وَلَوْ زَادَ مُدًّا أَوْ أَكْثَرَ أَوْ أَقَلَّ وَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَ فِي نَيِّفِ الْمَاشِيَةِ صَدَقَةَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ". وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أنَّهُ قَالَ: مَا زَادَ يَعْنِي عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَبِالْحِسَابِ.
عبدالرحمن بن ابی الزناد اپنے والد (ابو الزناد رحمہ اللہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہمارے جن فقہاء کو میں نے پایا جن کے قول پر بات ختم ہوتی ہے، ان میں سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابوبکر بن عبدالرحمن، خارجہ بن زید بن ثابت، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اور سلیمان بن یسار ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر بڑے بڑے مشائخ بھی، اور بعض اوقات کسی مسئلے میں ان کا اختلاف ہوتا تو ہم ان میں سے اکثر اور رائے میں افضل لوگوں کا قول لے لیتے۔ پھر انہوں نے کچھ احکام ذکر کیے اور فرمایا: وہ کہا کرتے تھے کہ کھجور میں زکاۃ نہیں اور نہ ہی غلے میں، یہاں تک کہ کھجور کا اندازہ یا غلے کا ماپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کے ساتھ پانچ وسق تک پہنچ جائے، اور وہ پھلوں میں سے کسی چیز میں زکاۃ نہیں سمجھتے تھے سوائے انگور کے، جب اس کا اندازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کے ساتھ پانچ وسق تک پہنچ جائے، اور وہ سمجھتے تھے کہ سونے، چاندی، کھجور، غلہ اور انگور میں (نصاب سے) زائد ہر مقدار میں زکاۃ ہے، اگرچہ ایک مد زیادہ ہو یا اس سے زیادہ یا کم، اور وہ مویشیوں: اونٹ، گائے اور بکری میں (نصاب سے) زائد مقدار پر زکاۃ نہیں سمجھتے تھے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو دو سو سے زائد ہوں گے تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7523]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطحاوي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں