🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1595. -- باب: ما لا زكاة فيه مما أخذ من البحر من عنبر وغيره.
-- باب: سمندر سے نکالی جانے والی ان اشیاء کا بیان جن میں کوئی زکوٰۃ نہیں، جیسے عنبر اور اس کے علاوہ دیگر اشیاء۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7593
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ أُذَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ فِي الْعَنْبَرِ زَكَاةٌ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ دَسَرَهُ الْبَحْرُ"..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عنبر میں زکاۃ نہیں، کیونکہ وہ ایک ایسی چیز ہے جسے دریا نے باہر پھینکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7593]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ابي شيبه»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7594
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، وَابْنُ قَعْنَبٍ وَسَعِيدٌ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَيْسَ الْعَنْبَرُ بِرِكَازٍ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ دَسَرَهُ الْبَحْرُ. وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
حضرت سفیان رحمہ اللہ یہ حدیث نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ عنبر (بڑی مچھلی) رکاز نہیں ہے، بلکہ یہ تو ایسی چیز ہے جسے دریا نے اگلا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7594]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم فيه»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7595
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعَنْبَرِ أَفِيهِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ:" إِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ فَفِيهِ الْخُمُسُ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ شَيْبَانَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَنْبَرِ أَفِيهِ ⦗٢٤٧⦘ زَكَاةٌ؟ ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِيَ فَابْنُ عَبَّاسٍ عَلَّقَ الْقَوْلَ فِيهِ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَقَطَعَ بِأَنْ لَا زَكَاةَ فِيهِ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى فَالْقَطْعُ أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عنبر کے بارے میں پوچھا گیا: کیا اس میں زکاۃ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر اس میں کچھ واجب ہے تو اس میں خمس ہے۔
یہ الفاظ امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کے ہیں، ابن شیبان کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عنبر کے بارے میں پوچھا گیا: کیا اس میں زکاۃ ہے؟ پھر باقی روایت ذکر کی۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس روایت میں اپنی بات کو شرط کے ساتھ مشروط رکھا ہے اور پہلی روایت میں قطعی طور پر فرمایا ہے کہ اس میں زکاۃ نہیں ہے، اور قطعی بات زیادہ اولیٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7595]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں