السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1597. -- باب: الدين مع الصدقة
-- باب: زکوٰۃ کے ساتھ قرض کا بیان۔
حدیث نمبر: 7616
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ النَّضْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ:" كَانُوا لَا يَرْصُدُونَ الثِّمَارَ فِي الدَّيْنِ"، قَالَ: قَالَ ابْنُ سِيرِينَ:" وَيَنْبَغِي لِلْعَيْنِ أَنْ تَرْصُدَ فِي الدَّيْنِ" قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ فَرَّقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ الْأَمْوَالِ الظَّاهِرَةِ وَالْأَمْوَالِ الْبَاطِنَةِ.
طلحہ بن نضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن سیرین رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ پھل کو قرضہ میں نہیں روکتے تھے، فرماتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ نقدی (سونا چاندی) کو قرض کے مقابلے میں روک لینا چاہیے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا پرانا مذہب ہے، جس میں انہوں نے ظاہری اور باطنی اموال میں فرق کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7616]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا پرانا مذہب ہے، جس میں انہوں نے ظاہری اور باطنی اموال میں فرق کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7616]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7617
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ قَالَ:" يُزَكِّي مَالَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُهُ". قَالَ: فَكَلَّمْتُهُ حَتَّى رَجَعَ عَنْهُ.
مسعر رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے گا اگرچہ اس کے برابر اس پر قرض ہو۔ وہ فرماتے ہیں: میں نے ان سے اس کے متعلق بات کی تو انہوں نے اس سے رجوع کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7617]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7618
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّهُ قَالَ:" يُزَكِّي الرَّجُلُ مَالَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ مِثْلُهُ؛ لَأَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيَنْكِحُ فِيهِ". قَالَ الشَّيْخُ: وَالظَّوَاهِرُ الَّتِي وَرَدَتْ بِإِيجَابِ الزَّكَاةِ فِي الْأَمْوَالِ تَشْهَدُ لِهَذَا الْقَوْلِ بِالصِّحَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ فِي الْجَدِيدِ وَكَانَ يَقُولُ: حَدِيثُ عُثْمَانَ يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَ بِقَضَاءِ الدَّيْنِ قَبْلَ حُلُولِ الصَّدَقَةِ فِي الْمَالِ، وَقَوْلُهُ هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ يَجُوزُ أَنْ يَقُولَ: هَذَا الشَّهْرُ الَّذِي إِذَا مَضَى حَلَّتْ زَكَاتُكُمْ كَمَا يُقَالُ شَهْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَإِنَّمَا الْحِجَّةُ بَعْدَ مُضَيِّ أَيَّامٍ مِنْهُ. أَخْبَرَنَا بِهَذَا الْكَلَامِ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ.
حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے، اگرچہ اس کے برابر اس پر قرض ہو، کیونکہ وہ اسی سے کھاتا اور نکاح کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ظاہری دلائل جو اموال کی زکاۃ کے وجوب میں آئے ہیں، وہ اس قول کی صحت کی گواہی دیتے ہیں اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول ہے، اور وہ فرمایا کرتے تھے: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث (واللہ اعلم) اس بات کے مشابہ ہے کہ انہوں نے مال میں زکاۃ کے وجوب سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا حکم دیا، اور ان کا فرمان: ”یہ تمہاری زکاۃ کا مہینہ ہے“، اس معنی میں ہو سکتا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس کے گزرنے پر تمہاری زکاۃ واجب ہو جائے گی، جس طرح کہا جاتا ہے ذوالحجہ کا مہینہ، حالانکہ حج اس کے چند ایام گزرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کی خبر ہمیں ابو سعید رحمہ اللہ نے دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7618]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ظاہری دلائل جو اموال کی زکاۃ کے وجوب میں آئے ہیں، وہ اس قول کی صحت کی گواہی دیتے ہیں اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول ہے، اور وہ فرمایا کرتے تھے: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث (واللہ اعلم) اس بات کے مشابہ ہے کہ انہوں نے مال میں زکاۃ کے وجوب سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا حکم دیا، اور ان کا فرمان: ”یہ تمہاری زکاۃ کا مہینہ ہے“، اس معنی میں ہو سکتا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس کے گزرنے پر تمہاری زکاۃ واجب ہو جائے گی، جس طرح کہا جاتا ہے ذوالحجہ کا مہینہ، حالانکہ حج اس کے چند ایام گزرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کی خبر ہمیں ابو سعید رحمہ اللہ نے دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7618]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح