السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1602. -- باب: كراهية ابتياع ما تصدق به من يدي من تصدق عليه.
-- باب: جس شخص کو صدقہ دیا گیا ہو، اسی کے ہاتھ سے اپنا صدقہ کیا ہوا مال خریدنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7631
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، فَقَالَ زَيْدٌ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِيهِ فَقَالَ:" لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، میں نے دیکھا کہ اسے بیچا جا رہا ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اسے خرید لوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے نہ خرید اور اپنے صدقہ میں نہ پلٹ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7632
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَرَأَى شَيْئًا مِنْ نِتَاجِهِ يُبَاعُ فَأَرَادَ شِرَاءَهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر انہوں نے دیکھا کہ اس کے بچوں میں سے کوئی فروخت کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خریدنا چاہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے نہ خرید اور اپنے صدقے میں نہ پلٹ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7633
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيِّ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ مَالِكٍ.
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا: میں نے ایک عمدہ گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا تو اسے اس کے مالک نے بیکار کر دیا، میں نے چاہا کہ اسے اس سے خرید لوں اور میرا خیال تھا کہ وہ مجھے کم قیمت میں مل جائے گا، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایک درہم کا بھی دے تو اس سے نہ خرید، کیونکہ صدقے میں لوٹنے والا کتے کی مانند ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7634
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ". فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ أَوْ بَرَّ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر انہوں نے دیکھا کہ اسے فروخت کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے صدقے میں نہ پلٹ۔“ اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے نہیں خریدتے تھے جسے صدقہ میں دے دیتے تھے یا اس سے نیکی کا حصول مقصود ہوتا تو اسے صدقہ کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7634]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح