السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1606. -- باب: من قال: لا شيء في المعدن حتى يبلغ نصابا
-- باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان میں اس وقت تک کچھ واجب نہیں جب تک وہ نصاب کو نہ پہنچ جائے“۔
حدیث نمبر: 7643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنِي فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا ⦗٢٦٠⦘ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَذَفَهُ بِهَا فَلَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ أَوْ لَعَقَرَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ، خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غَنِيًّ". وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا امْتَنَعَ مِنْ أَخْذِ الْوَاجِبِ مِنْهَا لِكَوْنِهَا نَاقِصَةً عَنِ النِّصَابِ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ، وَقَدْ مَضَتِ الْأَحَادِيثُ فِي نِصَابِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ.
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی انڈے کی مانند سونا لایا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ میں نے معدن (کان) سے حاصل کیا ہے، یہ لے لیں یہ صدقہ ہے، اس کے علاوہ میں کسی چیز کا مالک نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب سے آیا اور اس نے ایسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر وہ بائیں جانب سے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کر لیا۔ پھر وہ پیچھے سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اسے دے مارا، اگر اسے لگ جاتا تو اسے بہت تکلیف ہوتی یا اس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جاتی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس ایک ایسا شخص چیز لاتا ہے کہ وہی چیز اس کی مالیت ہے، پھر وہ کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے، پھر وہ بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی مال دار ہو محتاج نہ ہو۔“
اس سے یہ احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واجب کے لینے سے منع کیا ہو نصاب سے کم ہونے کی وجہ سے اور دوسرا بھی احتمال ہے اور سونے چاندی کے نصاب والی احادیث گزر چکی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7643]
اس سے یہ احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واجب کے لینے سے منع کیا ہو نصاب سے کم ہونے کی وجہ سے اور دوسرا بھی احتمال ہے اور سونے چاندی کے نصاب والی احادیث گزر چکی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7643]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف