السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1610. -- باب: ما يوجد منه مدفونا في قبور أهل الجاهلية
-- باب: زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی قبروں میں سے جو دفن شدہ خزانہ ملے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 7652
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ⦗٢٦٣⦘ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا قَبْرُ أَبِي فُلَانٍ وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ يَدْفَعُ بِهِ عَنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ فَدُفِنَ فِيهِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ إِنْ أَنْتُمْ نَبَشْتُمْ عَنْهُ وَجَدْتُمُوهُ مَعَهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ الْغُصْنَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَ: قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب ہم طائف سے نکلے تو ہمارا گزر ایک قبر سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قبر فلاں کی ہے اور یہ اس حرم سے اس کے ذریعے سے بچاؤ حاصل کرتا تھا۔ جب وہاں سے نکلا تو اسے آفت نے آ لیا اسی جگہ پر جو آفت اس کی قوم پر آئی تھی تو اسے اس میں دفن کر دیا گیا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی سونے کی چھڑی اس کے ساتھ دفن ہے۔ اگر تم اس کی قبر کو کھولو تو اسے اس کے ساتھ پاؤ گے۔“ تو لوگوں نے اس کی طرف جلدی کی اور وہاں سے وہ چھڑی نکال لی اور یہ قبر ابو رغال کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7652]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7653
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلُ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ ثنا الرِّيَاحِيُّ يَعْنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَوْ مَسِيرٍ فَمَرُّوا بِقَبْرٍ، فَقَالَ:" هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ كَانَ مِنْ قَوْمِ ثَمُودَ، فَلَمَّا أَهْلَكَ اللهُ قَوْمَهُ بِمَا أَهْلَكَهُمْ بِهِ مَنَعَهُ لِمَكَانِهِ مِنَ الْحَرَمِ، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ أَوِ الْمَوْضِعَ مَاتَ وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ". فَابْتَدَرْنَاهُ فَأَخْرَجْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ ایک قبر کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابو رغال کی قبر ہے، جو قوم ثمود میں سے تھا۔ جب اللہ نے اس کی قوم کو ہلاک کیا جس وجہ سے بھی ہلاک کیا تو وہ حرم میں ہونے کی وجہ سے بچ رہا، سو وہ وہاں سے نکلا جب اس جگہ پہنچا تو وہ فوت ہو گیا اور اسے دفن کر دیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی چھڑی کو بھی۔“ پھر ہم نے جلدی جلدی کی اور اسے وہاں سے نکال لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7653]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7654
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ أَصَابُوا قَبْرًا بِالْمَدَائِنِ فَوَجَدُوا فِيهِ رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ مَنْسُوجَةٌ بِالذَّهَبِ وَوَجَدُوا مَعَهُ مَالًا فَأَتَوْا بِهِ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَتَبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَيْهِ أَنْ" أَعْطِهِمْ وَلَا تَنْزِعْهُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا إِنْ وَجَدُوهَا فِي مَوَاتٍ مَلَكُوهَا فَفِيهَا الْخُمُسُ وَكَأَنَّهَا لَمْ تَبْلُغْ نِصَابًا أَوْ فَوَّضَ ذَلِكَ إِلَيْهِمْ لِيُخْرِجُوهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
جریر بن رباح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مدائن میں ایک قبر پائی، اس میں ایک آدمی کو پایا جس پر ایسا لباس تھا جو سونے سے بنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اور مال بھی پایا۔ وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھ بھیجا کہ وہ انہیں دے دیں ان سے نہ چھینیں۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر انہوں نے یہ بنجر (غیر مملوکہ) زمین میں پایا ہو تو وہی اس کے مالک ہیں اور اس میں خمس ہے، گویا کہ وہ نصاب کو نہیں پہنچا، یا یہ معاملہ انہی کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اسے خود ادا کریں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7654]
شیخ فرماتے ہیں: اگر انہوں نے یہ بنجر (غیر مملوکہ) زمین میں پایا ہو تو وہی اس کے مالک ہیں اور اس میں خمس ہے، گویا کہ وہ نصاب کو نہیں پہنچا، یا یہ معاملہ انہی کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اسے خود ادا کریں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7654]