🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1613. -- باب: ترك التعدي على الناس في الصدقة
-- باب: زکوٰۃ کی وصولی میں لوگوں پر زیادتی ترک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7659
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ سَاعِيًا فَقَالَ أَبُوهُ: لَا تَخْرُجْ حَتَّى تُحْدِثَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا فَلَمَّا أَرَادَ الْخُرُوجَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا قَيْسُ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِكَ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ وَلَا تَكُنْ كَأَبِي رِغَالٍ" فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا أَبُو رِغَالٍ؟ قَالَ: مُصَدِّقٌ بَعَثَهُ صَالِحٌ فَوَجَدَ رَجُلًا بِالطَّائِفِ فِي غَنِيمَةٍ قَرِيبَةٍ مِنَ الْمِائَةِ شِصَاصٍ إِلَّا شَاةً وَاحِدَةً وَابْنُ صَغِيرٍ لَا أُمَّ لَهُ فَلَبَنُ تِلْكَ الشَّاةِ عَيْشُهُ، فَقَالَ صَاحِبُ الْغَنَمِ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٢٦٦⦘ فَرَحَّبَ وَقَالَ هَذِهِ غَنَمِي فَخُذْ أَيَّمَا أَحْبَبْتَ فَنَظَرَ إِلَى الشَّاةِ اللَّبُونِ فَقَالَ: هَذِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ: هَذَا الْغُلَامُ كَمَا تَرَى لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ غَيْرُهَا فَقَالَ إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ اللَّبَنَ فَأَنَا أُحِبُّهُ، فَقَالَ خُذْ شَاتَيْنِ مَكَانَهَا فَلَمْ يَزَلْ يَزِيدُهُ وَيَبْذِلُ حَتَّى بَذَلَ لَهُ خَمْسَ شِيَاهٍ شِصَاصٍ مَكَانَهَا فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمَدَ إِلَى قَوْسِهِ فَرَمَاهُ فَقَتَلَهُ، وَقَالَ: مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ قَبْلِي فَأَتَى صَاحِبُ الْغَنَمِ صَالِحًا النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ صَالِحٌ: اللهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ اللهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ، فَقَالَ سَعْدُ بْنَ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اعْفُ قَيْسًا مِنَ السِّعَايَةِ.
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عامل بنا کر بھیجا تو ان کے والد نے انہیں کہا: تو اتنی دیر نہ جانا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد نہ لے لے، جب انہوں نے نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قیس! قیامت کے دن اس حالت میں نہ آنا کہ تیری گردن پر اونٹ ہو اور وہ بلبلا رہا ہو، یا گائے کے ساتھ اس کی آواز ہو اور نہ بکری کے ساتھ کہ وہ منمنا رہی ہو، اور تو ابو رغال کی طرح نہ ہونا۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو رغال کا کیا معاملہ ہوا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مصدق تھا جسے صالح نے بھیجا تھا، تو اس نے ایک آدمی کو تقریباً سو بکریوں کے ریوڑ میں دیکھا جو سب دودھ سے خشک تھیں سوائے ایک بکری کے، اور اس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کی ماں نہیں تھی، اس بکری کا دودھ ہی اس کی زندگی تھی، تو بکریوں والے نے کہا: تو کون ہے؟ تو اس نے کہا: میں اللہ کے رسول کا ایلچی ہوں، تو اس نے خوش آمدید کہا اور اس نے کہا: یہ میری بکریاں ہیں، جو تجھے پسند ہے وہ وصول کر، تو اس نے دودھ والی بکری کو دیکھا اور کہا کہ یہ ہے، تو اس آدمی نے کہا: یہ بچہ بھی ہے جسے تو دیکھتا ہے کہ اس کے لیے اس کے سوا کھانے پینے کی چیز نہیں ہے، تو اس نے کہا: اگر تو دودھ پسند کرتا ہے تو میں بھی دودھ پسند کرتا ہوں، اس نے کہا: تو اس کے عوض دو بکریاں وصول کر لے، تو وہ اسی طرح اضافہ کرتا رہا حتیٰ کہ اس نے دودھ سے خشک پانچ بکریاں پیش کر دیں مگر اس نے پھر بھی انکار کیا، جب اس نے یہ دیکھا تو اپنے تیر کو لیا اور اسے مار کر قتل کر دیا اور کہنے لگا: کسی کو لائق نہیں کہ مجھ سے پہلے یہ خبر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو بکریوں والا صالح کے پاس آیا اور خبر دی تو صالح نے کہا: «اللّٰهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ، اللّٰهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ» ”اے اللہ! ابو رغال پر لعنت کر، اے اللہ! ابو رغال پر لعنت کر۔““ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیس کو عاملیت سے معاف رکھیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7659]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن خريجه»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7660
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: مُرَّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَنَمٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَأَى فِيهَا شَاةً حَافِلًا ذَاتَ ضَرْعٍ عَظِيمٍ، فَقَالَ عُمَرُ:" مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟" فَقَالُوا: شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ عُمَرُ:" مَا أَعْطَى هَذِهِ أَهْلُهَا وَهُمْ طَائِعُونَ لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ لَا تَأْخُذُوا حَرَزَاتِ الْمُسْلِمِينَ نَكِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے صدقے کی بکریاں گزاری گئیں تو انہوں نے ایک بڑے تھنوں والی دودھ سے بھری بکری دیکھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ”یہ بکری کیسی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ زکاۃ کی بکری ہے“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مالکوں نے خوشی سے نہیں دی ہوگی، اس لیے تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا نہ کرو، تم مسلمانوں کے عمدہ اور قیمتی مال نہ لو، کھانے (کے جانوروں یعنی دودھ والے جانوروں) سے بچو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7660]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7661
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ، مِنَ أَشْجَعَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَأْتِيهِمْ مُصَدِّقًا فَيَقُولُ: لِرَبِّ الْمَالِ:" أَخْرِجْ إِلَيَّ صَدَقَةَ مَالِكَ" فَلَا يَقُودُ إِلَيْهِ شَاةً فِيهَا وَفَاءٌ مِنْ حَقِّهِ إِلَّا قَبِلَهَا.
محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ مجھے اشجع قبیلے کے دو آدمیوں نے خبر دی کہ محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس مصدق بن کر آئے تھے، تو وہ صاحبِ مال سے کہتے: تو اپنے مال کی زکاۃ مجھے دے، تو وہ ان کے پاس وہی لاتے تھے جو دینے کے لائق ہوتی تو وہ قبول کر لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7661]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه مالك»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں