السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1645. -- باب: ما ورد في قوله تعالى: ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة
-- باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق جو منقول ہے کہ ”اور وہ اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ وہ خود تنگ دستی کا شکار ہوں“۔
حدیث نمبر: 7802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ فُضَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَى نِسَائِهِ، فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يُضَيِّفُ هَذَا؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: أَكْرِمِي ضَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا مَعَنَا إِلَّا قُوتُ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ" هَيِّئِي طَعَامَكِ وَأَطْفِئِي سِرَاجَكِ، وَنَوِّمِي صِبْيَانَكِ إِذَا أَرَادُوا الْعَشَاءَ، فَهَيَّأَتْ طَعَامَهَا، وَأَصْلَحَتْ سِرَاجَهَا، وَنَوَّمَتْ صِبْيَانَهَا، ثُمَّ قَامَتْ كَأَنَّهَا تُصْلِحُ سِرَاجَهَا فَأَطْفَأَتْهُ، وَجَعَلَا يُرِيَانِهِ أَنَّهُمَا يَأْكُلَانِ وَبَاتَا طَاوِيَيْنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَقَدْ ضَحِكَ اللهُ اللَّيْلَةَ، أَوْ عَجِبَ مِنْ فِعَالِكُمْ"، وَقَالَ: وَأَنْزَلَ اللهُ: {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} [الحشر: ٩] ، تَلَا الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أوْجُهٍ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھیجا تو انھوں نے کہا: ہمارے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس مہمان کی مہمان نوازی کون کرے گا؟“ تو انصاری شخص نے کہا: میں کروں گا، پھر وہ اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چلا اور اپنی بیوی سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے اس کی عزت کرو، تو اس نے کہا: میں نے تو صرف بچوں کا کھانا رکھا ہوا ہے، تو انھوں نے کہا: کھانا تیار کرو اور چراغ گل کر دو اور بچوں کو سلا دو۔ سو جب انھوں نے کھانا کھانے کا ارادہ کیا تو اس کی بیوی نے کھانا تیار کیا اور دیے (چراغ) کو ٹھیک کیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ چراغ کو ٹھیک کرنے کھڑی ہوئی اور چراغ کو بند کر دیا اور وہ دونوں اس پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ دونوں بھی کھانا کھا رہے ہیں اور بھوک میں رات گزار دی۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس رات نے اللہ کو ہنسا دیا ہے“ یا فرمایا: ”تمہارے فعل کی وجہ سے تعجب کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [سورة الحشر: 9] کہ وہ اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود بھوک سے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7802]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7803
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاشْتَهَى عِنَبًا أَوَّلَ مَا جَاءَ الْعِنَبُ فَأَرْسَلَتْ صَفِيَّةُ بِدِرْهَمٍ فَاشْتَرَتْ عُنْقُودًا بِدِرْهَمٍ، فَاتَّبَعَ ⦗٣١١⦘ الرَّسُولَ سَائِلٌ، فَلَمَّا أَتَى الْبَابَ دَخَلَ، قَالَ السَّائِلُ: السَّائِلُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَعْطُوهُ إِيَّاهُ"، فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ أَرْسَلَتْ بِدِرْهَمٍ آخَرَ فَاشْتَرَتْ بِهِ عُنْقُودًا، فَاتَّبَعَ الرَّسُولَ السَّائِلُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ وَدَخَلَ قَالَ السَّائِلُ: السَّائِلُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَعْطُوهُ إِيَّاهُ"، فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهُ، وَأَرْسَلَتْ صَفِيَّةُ إِلَى السَّائِلِ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَئِنْ عُدْتَ لَا تُصِيبَنَّ مِنِّي خَيْرًا أَبَدًا، ثُمَّ أَرْسَلَتْ بِدِرْهَمٍ آخَرَ، فَاشْتَرَتْ بِهِ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے تو انہوں نے انگور کی خواہش کی، (جب) سب سے پہلے انگور آئے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ایک درہم بھیجا اور ایک درہم سے انگور کا گچھا خریدا گیا اور پیغام لانے والے کے پیچھے ایک سائل چلا، جب وہ دروازے پر آیا اور اندر داخل ہوا تو سائل نے کہا: سائل ہے، سائل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ اس کو دے دو، تو انہوں نے اسے دے دیا۔ پھر انہوں نے ایک اور درہم بھیجا اور اس سے انگور کا گچھا خریدا گیا، تو سائل پھر قاصد کے پیچھے چلا، جب وہ دروازے پر پہنچا اور اندر داخل ہوا تو سائل نے کہا: سائل ہے، سائل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ اس کو دے دو، تو انہوں نے اسے دے دیا، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سائل کو پیغام بھیجا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر تو پھر آیا تو مجھ سے کبھی بھلائی نہ پائے گا، پھر انہوں نے ایک اور درہم بھیجا اور اس سے (انگور) خریدے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7803]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الطبراني»
الحكم على الحديث: صحيح