السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1681. -- باب: من رخص من الصحابة في صوم يوم الشك
-- باب: ان صحابہ کرام کا بیان جنھوں نے یومِ شک کا روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے۔
حدیث نمبر: 7971
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطُّوسِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُوسَى مَوْلًى لِبَنِي نَصْرٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الْيَوْمِ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ النَّاسُ فَقَالَتْ:" لَأَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ" ⦗٣٥٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ رَوْحٍ، وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ: عَنِ الشَّهْرِ إِذَا غُمَّ، وَلَمْ يَقُلْ مَوْلًى لِبَنِي نَصْرٍ.
(٧٩٧١) عبداللہ بن ابوموسی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے اس دن کے روزے کے بارے میں سوال کیا جس میں شک ہو تو انھوں نے فرمایا کہ شعبان کے ایک دن کا روزہ رکھنا مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں رمضان کا روزہ ترک کردوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7971]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7972
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ فِنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ بِالدَّامِغَانِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنْبَةَ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْحَضْرَمِيَّ، ثنا عُثْمَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ ضُرَيْسٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ تَصُومُ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ.
(٧٩٧٢) فاطمہ بنت منذر اسماء سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ رمضان میں شک کے دن کا روزہ رکھا کرتی تھیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شعبان کے مہینے میں شک کا روزہ رکھوں یہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے رمضان کا ایک روزہ چھوڑدوں۔ اس لیے کہ اس سے مراد ایامِ ابیض کے روزے ہیں۔ لیکن جو علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تو انھوں نے یہ بات آدمی کے چاند دیکھنے کی گواہی پر کہی ہے اور یزید بن ہارون کی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے مذہب کے بارے میں ہے۔ جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کا روزے میں مذہب ہیجب بادل چھاجائیں مطلع صاف نہ ہو تو یہ سنت ثابتہ کی اتباع ہے جس پر اکثر صحابہ اور عوام ہیں اور اہل علم بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7972]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شعبان کے مہینے میں شک کا روزہ رکھوں یہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے رمضان کا ایک روزہ چھوڑدوں۔ اس لیے کہ اس سے مراد ایامِ ابیض کے روزے ہیں۔ لیکن جو علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تو انھوں نے یہ بات آدمی کے چاند دیکھنے کی گواہی پر کہی ہے اور یزید بن ہارون کی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے مذہب کے بارے میں ہے۔ جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کا روزے میں مذہب ہیجب بادل چھاجائیں مطلع صاف نہ ہو تو یہ سنت ثابتہ کی اتباع ہے جس پر اکثر صحابہ اور عوام ہیں اور اہل علم بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7972]