السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1710. -- باب: من أغمي عليه في أيام من شهر رمضان فلا يجزئ عنه، وإن لم يأكل فيها
-- باب: اس شخص کا بیان جو ماہِ رمضان کے کچھ دنوں میں بے ہوش رہا تو یہ اس کی طرف سے کفایت نہیں کرے گا (یعنی روزے درست نہیں ہوں گے)، اگرچہ اس نے ان دنوں میں کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8108
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور یقیناً انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوگی اور جس نے دنیا کو حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت دنیا کی طرف ہے یا عورت کے لیے ہجرت کی کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8108]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8109
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللهُ تَعَالَى، قَالَا: أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجُمَحِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:" الصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ، وَأَكْلَهُ، وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا کہ وہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑتا ہے اور روزہ ڈھال ہے اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت ہو گی اور ایک خوشی رب سے ملاقات کے وقت اور اس کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ محبوب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8109]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8110
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْحَذَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ حدَّثَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَصُومُ تَطَوُّعًا فَيُغْشَى عَلَيْهِ فَلَا يُفْطِرُ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْإِغْمَاءَ خِلَالَ الصَّوْمِ لَا يُفْسِدُهُ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نفلی روزہ رکھتے تھے اور ان پر غشی طاری ہو جاتی تو وہ افطار نہیں کیا کرتے تھے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات دلالت کرتی ہے کہ دورانِ روزہ بے ہوش ہو جانا روزے کو فاسد نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دارقطني»
الحكم على الحديث: صحيح