السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1756. -- باب: السواك للصائم
-- باب: روزہ دار کے لیے مسواک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8325
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا أُحْصِي وَلَا أَعُدُّ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ.
سیدنا عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں شمار نہیں کر سکتا جس قدر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسواک کرتے دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مسواک کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8325]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8326
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ" مُجَالِدٌ غَيْرُهُ أَثْبَتُ مِنْهُ، وَعَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے دار کے بہترین خصائل میں سے مسواک کرنا ہے۔“
مجالد سے دوسرے راوی زیادہ ثقہ ہیں، اور عاصم بن عبیداللہ قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8326]
مجالد سے دوسرے راوی زیادہ ثقہ ہیں، اور عاصم بن عبیداللہ قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8326]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8327
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ فِهْرٍ بِمَكَّةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَلْخِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْخُوَارَزْمِيُّ، قَاضِي خُوَارَزْمَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَيَّامَ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى قَالَ: سَأَلْتُ عَاصِمَ الْأَحْوَلَ، فَقُلْتُ: أَيَسْتَاكُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ"، فَقُلْتُ: بِرَطْبِ السِّوَاكِ وَيَابِسِهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ:" عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَهَذَا يَنْفَرِدُ بِهِ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَيْطَارٍ، وَيُقَالُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي ⦗٤٥٣⦘ خُوَارَزْمَ حَدَّثَ بِبَلْخٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِالْمَنَاكِيرِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ.
قاضیٔ خوارزم ابو اسحاق خوارزمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عاصم احول سے پوچھا کہ کیا روزے دار بھی مسواک کرے گا؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو میں نے کہا: مسواک تر یا خشک دونوں کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دن کے شروع یا آخر میں بھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کس نے بیان کیا؟ انہوں نے کہا: انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو اسحاق ابراہیم بن بیطار منفرد ہے، اسے ابراہیم بن عبدالرحمن قاضیٔ خوارزم بھی کہا جاتا ہے، اس نے بلخ میں عاصم احول سے منکر روایات بیان کیں، اس سے حجت نہیں لی جاتی، اور اس سے ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت کی گئی ہے جس میں دن کے شروع اور آخر کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8327]
اس روایت کو بیان کرنے میں ابو اسحاق ابراہیم بن بیطار منفرد ہے، اسے ابراہیم بن عبدالرحمن قاضیٔ خوارزم بھی کہا جاتا ہے، اس نے بلخ میں عاصم احول سے منکر روایات بیان کیں، اس سے حجت نہیں لی جاتی، اور اس سے ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت کی گئی ہے جس میں دن کے شروع اور آخر کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8327]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه دارقطني»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8328
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَزْدَكٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ وَاصِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَأَلْتُ عَاصِمَ الْأَحْوَلَ عَنِ السِّوَاكِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ"، فَقُلْتُ بِرَطْبِ السِّوَاكِ وَيَابِسِهِ، فَقَالَ:" أَتُرَاهُ أَشَدَّ رُطُوبَةً مِنَ الْمَاءِ؟" قُلْتُ عَمَّنْ، قَالَ" عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: إِبْرَاهِيمُ هَذَا عَامَّةُ أَحَادِيثِهِ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ.
ابراہیم بن عبدالرحمن نے کہا: میں نے عاصم احول سے روزے دار کی مسواک کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں، تو میں نے کہا: تر اور خشک دونوں کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کی رطوبت پانی سے بھی زیادہ ہے؟ میں نے کہا: آپ نے کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: اس ابراہیم کی اکثر احادیث غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8328]
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: اس ابراہیم کی اکثر احادیث غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8328]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن عدي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8329
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَدْأَبَ سِوَاكًا وَهُوَ صَائِمٌ مِنْ عُمَرَ" أَرَاهُ قَالَ:" بِعُودٍ قَدْ ذَوِيَ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ يَعْنِي يَبِسَ.
زیاد بن حدیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی ایک کو نہیں دیکھا جو مسواک کی زیادہ سے زیادہ مواظبت کرنے والا ہو روزے کی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: لکڑی سے، ابو عبیدہ نے کہا: یعنی خشک لکڑی سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8329]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8330
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ.
عبداللہ بن نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام، اپنے والد سے بیان کرتے ہیں اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ روزے کی حالت میں مسواک کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8330]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف