🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1774. -- باب: صوم ثلاثة أيام من كل شهر
-- باب: ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8436
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَبَّاسِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ النَّوْمِ عَلَى الْوِتْرِ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ فُورَكٍ: الْوِتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ، قَالَ: وَصَلَاةُ الضُّحَى. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ وَأَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرے دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، ضحی کی دو رکعتیں ادا کرنا اور وتر کے بعد سونا۔“
(ابن فورک کی روایت میں ہے کہ سونے سے پہلے وتر پڑھنا اور کہا: ضحی کی نماز۔) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8436]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8437
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ⦗٤٨٥⦘ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطْعَمَ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ وَكَادُوا يَفْرُغُونَ فَجَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ" فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللهِ، وَصَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللهِ.
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے۔ جب پڑاؤ کیا تو ان کی طرف کھانے کے لیے پیغام بھیجا گیا مگر وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے ایلچی سے کہا: میں روزے سے ہوں، مگر جب کھانا رکھا گیا اور سب فارغ ہونے کے قریب تھے تو وہ بھی آگئے اور کھانا شروع کر دیا، تو قوم نے ایلچی کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے مجھے ہی بتایا ہے کہ میں روزے سے ہوں۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کے مہینہ کے روزے اور ہر ماہ میں سے تین روزے پورے سال کے روزے ہیں۔“ سو میں نے مہینے کے تین رکھے ہیں اور میں مفطر ہوں اللہ کی طرف سے دی ہوئی تخفیف کی وجہ سے اور روزے دار ہوں اجر کے اضافے کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8437]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8438
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَجُلٌ طَوِيلٌ أَسْوَدُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ عَلَى أِيِّ حَالٍ هُوَ الْيَوْمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَصَائِمٌ أَنْتَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْإِذْنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَخَلُوا فَأُتِينَا بِقِصَاعٍ فَأَكَلَ فَحَرَّكْتُهُ أُذَكِّرُهُ بِيَدِي فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَنْسَ مَا قُلْتُ لَكَ أَخْبَرْتُكَ أَنِّي صَائِمٌ إِنِّي أَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَأَنَا أَبَدًا صَائِمٌ".
عبداللہ بن شقیق عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو ایک لمبا آدمی سیاہ رنگ کا دیکھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے کہا: آج یہ کس حالت میں ہیں؟ میں ضرور دیکھوں گا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ روزے سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کے لیے اجازت کا انتظار کر رہے تھے، سو وہ داخل ہو گئے۔ ہم کھانے کا برتن وغیرہ لائے تو انہوں نے کھایا، سو میں نے حرکت دی اور اپنے ہاتھ سے یاد کروانا چاہا تو انہوں نے کہا: جو میں نے کہا تھا، میں اس سے بھولا نہیں ہوں۔ میں نے تجھے خبر دی تھی کہ میں صائم ہوں، میں ہر مہینے میں سے تین روزے رکھتا ہوں، بلکہ میں ہمیشہ روزے رکھتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8438]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں