السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1797. -- باب: الترغيب في طلبها في الشفع من العشر الأواخر فإنه إذا عد الشهر من آخره كانت أشفاعه أوتارا
-- باب: اسے آخری عشرے کی جفت راتوں میں تلاش کرنے کی ترغیب، کیونکہ جب مہینے کو اس کے آخر سے شمار کیا جائے تو اس کی جفت راتیں طاق بن جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 8532
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ أَبُو مَسْعُودٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَنُقِضَ وَرُفِعَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ مَكَانَهُ وَاعْتَكَفَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي أُنْبِئْتُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ كَيْمَا أُحَدِّثُكُمْ بِهَا أَوْ أُخْبِرُكُمْ بِهَا فَتَلَاحَى رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ ⦗٥٠٨⦘ وَالْخَامِسَةِ".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کے لیے اس سے پہلے کہ (وہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے واضح کی جاتی، جب عشرہ پورا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ ختم کرنے کا حکم دیا تو اسے اٹھا لیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے واضح کر دیا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اسی جگہ خیمہ دوبارہ نصب کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! مجھے لیلۃ القدر کی خبر دی گئی، میں نکلا تاکہ تمہیں آگاہ کروں مگر دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے اور ان کے ساتھ شیطان تھا، سو میں (وہ وقت) بھلا دیا گیا، تم اسے نو، سات اور پانچ کی راتوں میں تلاش کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8532]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى وَفِي سَابِعَةٍ تَبْقَى وَفِي خَامِسَةٍ تَبْقَى". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ وَعَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْتَمِسُوهَا فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے تلاش کرو، رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر ہوتی ہے، جب نو باقی ہوں یا سات باقی ہوں یا پانچ باقی ہوں۔“
اور خالد نے عکرمہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسے چوبیس میں تلاش کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8533]
اور خالد نے عکرمہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسے چوبیس میں تلاش کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8533]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8534
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَعِكْرِمَةَ، قَالَا: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَنْ يَعْلَمُ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" هِيَ فِي الْعَشْرِ وَهِيَ فِي تِسْعٍ يَمْضِينَ أَوْ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: کون جانتا ہے کہ لیلۃ القدر کب ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دس میں ہے اور یہ نو گزر جائیں تو تب سے یا سات باقی رہ جائیں تو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8534]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح