السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1856. -- باب: من اختار التمتع بالعمرة إلى الحج، وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان متمتعا، أو تأسف عليه، ولا يتأسف إلا على ما هو أفضل
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ متمتع تھے، یا آپ ﷺ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا، اور افسوس صرف اسی چیز پر کیا جاتا ہے جو زیادہ افضل ہو۔
حدیث نمبر: 8864
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فِي أُنَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهَلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا بَعْدَ أَنْ قَدِمَ أَنْ نَحِلَّ، فَقَالَ:" أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ" قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يُعَزِّمْ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبُوا النِّسَاءَ، وَلَكِنَّهُ أَحلَّهُنَّ لَهُمْ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ ⦗٢٧⦘ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِيَ عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَنِيَّ، قَالَ: وَيَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى قَوْلِهِ بِيَدِهِ يُحرِّكُهَا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، فَقَالَ:" قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَأَحْلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، فَحَلُّوا"، قَالَ: فَأَحْلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ سِعَايَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَا أَهْلَلْتَ؟"، قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا"، قَالَ: فَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَدْيًا، قَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟، قَالَ:" بَلْ لِأَبَدٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَمِنْ حَدِيثِ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَاءٍ.
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے ساتھ کے لوگوں میں میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم اصحابِ رسول نے خالصتاً حج کا تلبیہ کہا، تو ذوالحجہ کی چوتھی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”حلال ہو جاؤ اور عورتوں سے حاجت پوری کرو۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورتوں سے حاجت پوری کرنا ان پر فرض قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ مباح کیا گیا تھا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے بارے میں یہ بات پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حلال ہونے اور عورتوں کے پاس جانے کا کہہ دیا ہے، تو کیا ہم عرفہ میں اس حالت میں پہنچیں گے کہ ہمارے ذکر منی کے قطرے بہا رہے ہوں گے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور زیادہ سچا اور زیادہ نیک ہوں، اور اگر میں قربانی ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی تمہاری طرح حلال ہو جاتا، اور اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا، لہٰذا تم حلال ہو جاؤ۔“ کہتے ہیں کہ ہم حلال ہو گئے، ہم نے بات سنی اور اطاعت کر لی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے کام سے واپس آئے تو ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کیا تلبیہ کہا تھا؟“ تو وہ کہنے لگے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تو قربانی کرنا اور حرام ہی رہ۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے قربانی کی، سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا یہ فائدہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8864]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1216۔ بخاري 6933»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8865
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ لِخَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا وَهُوَ غَضْبَانُ، قُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَدْخَلَهُ اللهُ النَّارَ، قَالَ:" أَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ؟"، قَالَ: الْحَكَمُ كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسَبُ قَالَ:" وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلَّ كَمَا حَلُّوا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَمُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ذوالحجہ کی چار یا پانچ تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے تو ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کس نے غصہ دلایا ہے؟ اللہ اس کو جہنم رسید کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا ہے اور وہ اس میں متردد ہیں۔“ حکم کہتے ہیں کہ گویا کہ وہ ڈر گئے، میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اس بات کا علم پہلے ہوجاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا بلکہ یہیں سے خریدتا اور اسی طرح حلال ہوجاتا جس طرح یہ حلال ہوئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8865]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1492۔ مسلم 1242»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8866
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَمَرَنِي بِهَا، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَجُلًا يَقُولُ لِي: حَجٌّ مَبْرُورٌ وَعُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ:" اللهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو جَمْرَةَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَقِمْ عِنْدِي وَأَجْعَلُ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي"، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: وَلِمَ قَالَ لَكَ ذَلِكَ؟، فَقَالَ: لِلرُّؤْيَا الَّتِي رَأَيْتُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
ابوجمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حجِ تمتع کیا تو لوگوں نے مجھے منع کیا، تو میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے مجھے تمتع کرنے کا کہا، پھر میں نے خواب میں دیکھا گویا ایک آدمی مجھے کہہ رہا ہے: ”حجِ مبرور اور مقبول عمرہ“، تو یہ بات میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ!» ”یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے“۔ ابوجمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میرے پاس ٹھہرو، میں اپنے مال میں سے تمہارا ایک حصہ مقرر کروں گا“، شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: انہوں نے آپ سے یہ بات کیوں کہی؟ تو انہوں نے کہا: اس خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8866]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 11211»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8867
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:" نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعِمْرَانُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ الْقَصِيرُ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمتع کی آیت کتاب اللہ میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر تمتع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8867]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4246۔ مسلم 1226»
الحكم على الحديث: صحيح