السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1935. -- باب: المحرم يتقلد السيف
-- باب: محرم کا تلوار لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9189
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ كَتَبَ بَيْنَهُمْ كِتَابًا: هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ قَالَ: لِعَلِيٍّ:" امْحُهُ" فَأَبَى فَمَحَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَكَتَبَ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَاشْتَرَطُوا عَلَيْهِ أَنْ يُقِيمُوا ثَلَاثًا وَلَا يَدْخُلُوا مَكَّةَ بِسِلَاحٍ إِلَّا جُلُبَّانَ السِّلَاحِ قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ؟ قَالَ: السَّيْفُ بِقِرَابِهِ أَوْ بِمَا فِيهِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکینِ قریش سے صلح کی تو ایک تحریر لکھی: ”یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے“، وہ کہنے لگے: اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول سمجھتے ہوتے تو کبھی بھی آپ سے لڑائی نہ کرتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس کو مٹا دو“، تو انہوں نے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اس کو مٹا دیا اور لکھا کہ: ”یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے“ اور انہوں نے یہ شرط لگائی کہ وہ تین دن تک (مکہ میں) رہیں گے اور مکہ میں نیام میں بند تلوار کے علاوہ اور کوئی اسلحہ نہیں لائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9189]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2551۔ مسلم 1783»
الحكم على الحديث: صحيح