السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1978. -- باب: الخروج إلى الصفا والمروة، والسعي بينهما، والذكر عليهما
-- باب: صفا اور مروہ کی طرف نکلنے، ان کے درمیان سعی کرنے اور ان پر ذکر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9344
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ لَهُ الْبَيْتُ، قَالَ: وَكَانَ يُكَبِّرُ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ، وَيَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"، وَيَصْنَعُ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَذَلِكَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ التَّكْبِيرِ وَسَبْعٌ مِنَ التَّهْلِيلِ ثُمَّ يَدْعُو فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَيَسْأَلُ اللهَ ثُمَّ يَهْبِطُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَطْنِ الْمَسِيلِ سَعَى حَتَّى يَظْهَرَ مِنْهُ ثُمَّ يَمْشِيَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَرْوَةَ فَيَرْقَى عَلَيْهَا، فَيَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ عَلَى الصَّفَا يَصْنَعُ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ سَعْيِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب صفا و مروہ کا طواف کرتے تو صفا سے آغاز فرماتے، اس پر چڑھتے حتیٰ کہ بیت اللہ نظر آتا اور تین تکبیرات کہتے اور کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کے لیے تعریفات ہیں اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے“ اور یہ کام سات مرتبہ کرتے تو یہ اکیس تکبیرات اور سات تہلیلات ہو گئیں، پھر اس کے درمیان دعا کرتے، اللہ سے سوال کرتے، پھر اترتے حتیٰ کہ وادی کے درمیان پہنچتے تو سعی کرتے حتیٰ کہ اس پر چڑھ جاتے، پھر چلتے ہوئے مروہ آتے، اس پر چڑھتے جس طرح صفا پر کیا تھا ویسا ہی کرتے، اس طرح سات مرتبہ کرتے حتیٰ کہ سعی سے فارغ ہو جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9344]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9345
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ عَلَى الصَّفَا يَدْعُو وَيَقُولُ:" اللهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: ٦٠] وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي إِلَى الْإِسْلَامِ أَلَّا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ".
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا پر دعا کرتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [سورة غافر: 60] ، وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ [سورة آل عمران: 194] ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي لِلْإِسْلَامِ أَنْ لَا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ» ”اے اللہ! تو نے فرمایا ہے: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [سورة غافر: 60] ”مجھے پکارو میں تمہاری قبول کروں گا“ اور ﴿إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾ [سورة آل عمران: 194] ”تو وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا“ اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے مجھے اسلام کی ہدایت دی ہے، تو اب یہ اسلام مجھ سے نہ چھیننا حتیٰ کہ میں اسلام پر ہی فوت ہو جاؤں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9345]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 831»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9346
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عَلَى الصَّفَا:" اللهُمَّ اعْصِمْنَا بِدِينِكَ، وَطَوَاعِيَتِكَ وَطَوَاعِيَةِ رَسُولِكَ، وَجَنِّبْنَا حُدُودَكَ، اللهُمَّ اجْعَلْنَا نُحِبُّكَ وَنُحِبُّ مَلَائِكَتَكَ، وَأَنْبِيَاءَكَ، وَرُسُلَكَ وَنُحِبُّ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ، اللهُمَّ حَبِّبْنَا إِلَيْكَ، وَإِلَى مَلَائِكَتِكَ، وَإِلَى أَنْبِيَائِكَ وَرُسُلِكَ، وَإِلَى عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ، اللهُمَّ يَسِّرْنَا لِلْيُسْرَى وَجَنِّبْنَا الْعُسْرَى، وَاغْفِرْ لَنَا فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى، وَاجْعَلْنَا مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما صفا پر کہا کرتے تھے: اے اللہ! ہمیں اپنے دین اور اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ بچا کر رکھنا اور اپنی حدود سے دور رکھ۔ اے اللہ! ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم تیرے ساتھ، تیرے فرشتوں کے ساتھ، تیرے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ اور تیرے نیک بندوں کے ساتھ محبت کریں، اے اللہ! ہمیں اپنے، اپنے فرشتوں، رسولوں، نبیوں اور نیک بندوں کی طرف محبوب بنا دے، اے اللہ! ہمیں نیکی آسان کر دے اور برائی سے ہمیں بچا اور ہمیں دنیا و آخرت میں معاف فرما اور پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9346]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9347
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا صَدَقَةُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: هَلْ مِنْ قَوْلٍ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَلْزَمُهُ؟ قَالَ: لَا تَسْأَلْ عَنْ ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِوَاجِبٍ فَأَبَيْتُ أَنْ أَدَعَهُ حَتَّى يُخْبِرَنِي، قَالَ: كَانَ يُطِيلُ الْقِيَامَ حَتَّى لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْهُ لَجَلَسْنَا فَيُكَبِّرُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"، ثُمَّ يَدْعُو طَوِيلًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَيَخْفِضُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْأَلُهُ أَنْ يَقْضِيَ عَنْهُ مَغْرَمَهُ فِيمَا سَأَلَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" ثُمَّ يَسْأَلُ طَوِيلًا كَذَلِكَ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي كُلِّ مَا حَجَّ وَاعْتَمَرَ ⦗١٥٤⦘.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے کہا: ”کیا کوئی ایسی بات ہے جسے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لازم پکڑتے تھے؟“ تو انہوں نے کہا: ”آپ اس بارے میں سوال نہ کریں، یہ واجب نہیں ہے“، تو میں نے انہیں اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک انہوں نے بتا نہیں دیا، انہوں نے کہا: ”وہ بہت لمبا قیام کرتے تھے، اگر ہمیں ان سے حیا نہ ہوتی تو ہم بیٹھ جاتے، وہ تین مرتبہ تکبیر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے پھر کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے“، پھر لمبی دعا کرتے اور آواز کو کبھی بلند اور کبھی پست کرتے یہاں تک کہ وہ سوال کرتے کہ اس کی چٹی پوری کر دے جو اس نے مانگا ہے، پھر تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر کہتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔۔۔ الخ» ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔۔۔ الخ“ پھر اسی طرح لمبی دعا کرتے حتیٰ کہ یہ عمل سات مرتبہ دہراتے۔ صفا اور مروہ پر ہر حج و عمرہ میں ایسے ہی کرتے تھے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9347]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا صَدَقَةُ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9348]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9349
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا شَاذَانُ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الصَّفَا:" اللهُمَّ أَحْيِنِي عَلَى سُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَوَفَّنِي عَلَى مِلَّتِهِ، وَأَعِذْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما صفا کے پاس آ کر کہتے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي عَلَى سُنَّةِ نَبِيِّكَ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَتَوَفَّنِي عَلَى مِلَّتِهِ، وَأَعِذْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ» ”اے اللہ! مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر زندہ رکھ اور ان کی ملت (دین) پر موت دے اور گمراہ کن فتنوں سے بچا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9349]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9350
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: قَامَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الصَّدْعِ الَّذِي فِي الصَّفَا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَا هُنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، فَقَالَ:" هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
علقمہ اور اسود دونوں فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صفا کے کنارے پر کھڑے ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہاں؟ تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں، یہی اس شخص کا مقام ہے، جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9350]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9351
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْبَشِيرِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: جِئْتُ مُسَلِّمًا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَصَحِبْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَتَّى دَخَلَ فِي الطَّوَافِ فَطَافَ ثَلَاثَةً رَمَلًا وَأَرْبَعَةً مَشْيًا، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَى الشِّقِّ الَّذِي عَلَى الصَّفَا فَلَبَّى فَقُلْتُ: إِنِّي نُهِيتُ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَقَالَ:" وَلَكِنْ آمُرُكَ بِهَا كَانَتِ التَّلْبِيَةُ اسْتِجَابَةً اسْتَجَابَهَا إِبْرَاهِيمُ" فَلَمَّا هَبَطَ إِلَى الْوَادِي سَعَى، فَقَالَ:" اللهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ" هَذَا أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
مسروق کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر سلام کہتے ہوئے آیا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو لیا حتیٰ کہ طواف شروع کیا، تین طواف رمل اور چار چل کر کیے، پھر انہوں نے مقام کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں، پھر حجرِ اسود کی طرف گئے، بوسہ دیا، پھر صفا کی طرف چل نکلے اور صفا کے کنارے پر کھڑے ہوئے تو تلبیہ کہا، میں نے کہا: مجھے تلبیہ سے منع کیا گیا ہے، تو انہوں نے کہا: میں تجھے اس کا حکم دیتا ہوں، تلبیہ دعائے مقبول تھی جو ابراہیم کی قبول کی گئی، جب وہ وادی میں اترے تو سعی کی اور کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے اللہ! بخش دے اور رحم کر اور تو ہی عزت والا اور کرم والا ہے“۔
اس بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایات میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9351]
اس بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایات میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9351]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 15570۔ 15571»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9352
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْحَرَّانِيَّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ:" رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْ، وَأَنْتَ، أَوْ إِنَّكَ، الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ".
ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا و مروہ کے درمیان یہ کہتے سنا: «رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے میرے رب! مجھے معاف کر دے اور رحم کر اور تو ہی عزت و کرم والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9352]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9353
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَقُومُ فِي حَوْضٍ فِي أَسْفَلِ الصَّفَا وَلَا يَظْهَرُ عَلَيْهِ.
ابن ابی نجیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے خبر دی، جس نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ صفا سے نچلے حوض میں کھڑے ہوئے اور اس پر نہ چڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9353]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ شافعي في الام 2/ 323»
الحكم على الحديث: ضعيف