السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1980. -- باب: وجوب الطواف بين الصفا والمروة وأن غيره لا يجزي عنه
-- باب: صفا اور مروہ کے درمیان طواف (سعی) کے واجب ہونے اور اس بات کا بیان کہ اس کے بدلے کوئی اور عمل کفایت نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 9357
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ ⦗١٥٦⦘ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] ؟ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطُوفَ بِهِمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ:" كَلَّا لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ وَكَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] " الْآيَةَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: زَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ مَا أَتَمَّ اللهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا، جب کہ میں ابھی نو عمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بیشک صفا و مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر ان دونوں کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے“ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی طواف نہ بھی کرے تو اس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے، اگر یہ بات ہوتی جو تو کہتا ہے تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی کہ ”اگر کوئی طواف نہ بھی کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں“، یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، وہ مناۃ کے لیے تلبیہ کہتے تھے اور مناۃ قدید کے سامنے تھا، تو اس لیے وہ صفا و مروہ کے طواف میں حرج محسوس کرتے تھے۔ تو جب اسلام آیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو معاویہ نے ہشام سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج اور عمرہ مکمل نہ کرے جس نے صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کیا (سعی نہ کی)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9357]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو معاویہ نے ہشام سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج اور عمرہ مکمل نہ کرے جس نے صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کیا (سعی نہ کی)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9357]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1561۔ مسلم 1277»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9358
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ، وَقَالَ، هَنَّادٌ: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ رَجُلًا لَوْ تَرَكَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ لَمْ يَضُرَّهُ، قَالَتْ:" وَلِمَ؟" قُلْتُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] قَالَتْ:" يَا ابْنَ أُخْتِي لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، مَا أَتَمَّ اللهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَتَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَلِكَ؟ كَانَتِ الْأَنْصَارُ يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمٍ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَيَحْلِقُونَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا؛ لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ بَيْنَهُمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ} [البقرة: ١٥٨] فَعَادَ النَّاسُ فَطَافُوا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى كَذَا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ أَنَّ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ كَانُوا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكٍ فِي أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيمَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَهُمَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ كِلَاهُمَا صَحِيحًا فَقَدْ:.
سیدنا عروہ بن زبیر بن عوام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں، اگر کوئی آدمی صفا و مروہ کا طواف چھوڑ دے تو اس کو کوئی نقصان نہ ہوگا، انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھانجے! اگر ایسی بات ہوتی جو تو کہتا ہے تو ہونا چاہیے تھا کہ ”ان کا طواف نہ کرنے میں حرج نہیں ہے“ اس شخص کا حج و عمرہ مکمل نہیں جس نے صفا و مروہ کا طواف نہ کیا۔ کیا تجھے علم ہے یہ کس بارے میں نازل ہوئی؟ انصار سمندر کے کنارے ایک بت کے لیے تلبیہ کہتے تھے، پھر وہ آتے اور صفا و مروہ کا طواف کرتے اور سر منڈواتے، تو جب اسلام آیا تو انہوں نے اس وجہ سے جو وہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے ان دونوں کے درمیان طواف کرنا ناپسند کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ﴾ [سورة البقرة: 158] (الخ) تو لوگ آئے اور انہوں نے طواف کیا۔
(ب) ابو معاویہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو جاہلیت میں صفا و مروہ کے درمیان طواف کرتے تھے۔
(ج) امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی جو ان دونوں کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، احتمال ہے کہ دونوں قول درست ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9358]
(ب) ابو معاویہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو جاہلیت میں صفا و مروہ کے درمیان طواف کرتے تھے۔
(ج) امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی جو ان دونوں کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، احتمال ہے کہ دونوں قول درست ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9359
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] ؟ ⦗١٥٧⦘ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَاللهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِي أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ أَنْزَلَ اللهُ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] الْآيَةَ"، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا".
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کا اس آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: اگر کوئی صفا و مروہ کا طواف نہ بھی کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے بھانجے! تو نے بہت برا کہا ہے، اگر اس آیت کا وہ معنی ہوتا جو تو نے لیا ہے تو آیت یوں ہوتی: «فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا» ”تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے“، لیکن یہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ اسلام لانے سے پہلے مناۃ طاغوت کے لیے تلبیہ کہتے تھے، جس کی وہ مشلل کے پاس عبادت کرتے تھے اور جو اس کے لیے تلبیہ کہتا تھا وہ صفا و مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کرتا تھا، تو جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان طواف مشروع قرار دیا ہے، پس کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ ان کا طواف نہ کرے۔“ [صحیح۔ مالک: 832] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9359]
حدیث نمبر: 9360
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ: قَالَ: فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ بِالَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ مِنْ ذَلِكَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إنَّ هَذَا لَعِلْمٌ وَأَمْرٌ مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إنَّ النَّاسَ إِلَّا مَنْ ذَكَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِمَّنْ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَإنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّوَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَهَلْ عَلَيْنَا يَا رَسُولَ اللهِ حَرَجٌ فِي أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَسْمَعُ هَذِهِ الْآيَةَ قَدْ أُنْزِلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالَّذِينَ كَانُوا يَطُوفُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَعَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ حِينَ ذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ كَذَلِكَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ كَذَلِكَ، وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ تُوَافِقُ رِوَايَةَ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَرِوَايَتُهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُوَافِقُ رِوَايَةَ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ هَاشِمٍ، ثُمَّ قَدْ حَمَلَهُ أَبُو بَكْرٍ عَلَى الْأَمْرَيْنِ جَمِيعًا وَأَنَّ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ مَعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے یہی حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ کو وہ بات بتائی جو عروہ نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی تھی، تو ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: یہ ایسا علم اور ایسی بات ہے جو میں نے نہیں سنی تھی، میں نے اہل علم میں سے کئی لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن لوگوں کا ذکر کیا جو مناۃ کے لیے تلبیہ کہتے تھے، ان کے سوا باقی سب لوگ صفا و مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، اور جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا و مروہ کے طواف کا ذکر نہیں کیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا صفا و مروہ کا طواف کرنے میں ہم پر کوئی حرج ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ابوبکر کہتے ہیں: تو میں سنتا ہوں کہ یہ آیت دونوں گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے: ان لوگوں کے بارے میں جو جاہلیت میں صفا و مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، اور ان کے بارے میں جو جاہلیت میں بیت اللہ کے طواف کے ساتھ صفا و مروہ کا طواف بھی کیا کرتے تھے، جب اللہ نے (صرف بیت اللہ کے) طواف کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1561۔ مسلم 1277»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9361
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةَ كَانَتَا مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صفا و مروہ جاہلیت کے شعائر میں سے تھے، جب اسلام آیا تو ہم ان سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9361]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1565۔ مسلم 1278»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9362
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيُصِيبُ الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَقَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ تَلَا: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”کیا کوئی شخص صفا و مروہ کے طواف سے پہلے اپنی بیوی کے پاس جا سکتا ہے؟“ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بیت اللہ کا طواف کیا، پھر دو رکعتیں ادا کیں پھر صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1546۔ مسلم 1234»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9363
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا سُرَيْجٌ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ الْمُقْرِئِ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ سَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ فِي عُمْرَةٍ أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟ قَالَ:" لَا"، وَسَأَلُوا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ابْنُ عُمَرَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا وَ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] .
عمرو کہتے ہیں کہ ہم نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا جس شخص نے بیت اللہ کا طواف کیا ہو اور ابھی صفا و مروہ کی سعی نہ کی ہو وہ اپنی بیوی کے پاس جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیت اللہ کے سات چکر لگائے، پھر مقام کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں اور صفا و مروہ کے سات طواف کیے اور ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو يعلي 5634»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9364
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ عَنْ سُفْيَانَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کرنے کے لیے آیا اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن صفا و مروہ کا طواف نہ کیا تو کیا وہ اپنی بیوی کے پاس جا سکتا ہے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سابقہ حدیث والے الفاظ ہی ذکر کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9364]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1563۔ مسلم 1234»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9365
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي مَعْرُوفُ بْنُ مُشْكَانَ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ أَخْبَرَتْنِي عَنْ نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ اللَّاتِي أَدْرَكْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ: دَخَلْنَا دَارَ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ فَاطَّلَعْنَا مِنْ بَابٍ مُقَطَّعٍ، وَرَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ فِي الْمَسْعَى حَتَّى إِذَا بَلَغَ زُقَاقَ بَنِي فُلَانٍ - مَوْضِعٌ قَدْ سَمَّاهُ مِنَ الْمَسْعَى - اسْتَقْبَلَ النَّاسَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْعَوْا؛ فَإِنَّ السَّعْيَ قَدْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ".
بنی عبدالدار کی وہ عورتیں رضی اللہ عنہن جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے، فرماتی ہیں کہ ہم ابن ابی حسین کے گھر گئیں، ہم نے ٹوٹے ہوئے دروازے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، وہ سعی والی جگہ میں تیزی کر رہے تھے، حتیٰ کہ جب بنی فلاں کے تنگ راستے پر پہنچے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! سعی کرو کیونکہ سعی تم پر فرض کر دی گئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9365]
تخریج الحدیث: «حسن۔ دارقطني 2/ 255»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9366
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْعَابِدِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ⦗١٥٩⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي بِنْتُ أَبِي تَجْرَأَةَ، إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ دَارَ آلِ أَبِي حُسَيْنٍ نَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَرَأَيْتُهُ يَسْعَى وَإنَّ مِئْزَرَهُ لَيَدُورُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ إِنِّي لَأَرَى رُكْبَتَيْهِ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اسْعَوْا؛ فَإِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ" رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، عَنِ ابْنِ الْمُؤَمَّلِ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَيْصِنٍ وَقَالَا: عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْرَأَةَ وَزَعَمَ الْوَاقِدِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَزِيزَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْرَأَةَ وَقِيلَ عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ تَمْلِكَ وَكَأَنَّهَا سَمِعَتْهُ مِنْهُمَا فَقَدْ أَخْبَرَتْ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى أَنَّهَا أَخَذَتْهُ عَنْ نِسْوَةٍ.
بنو عبد الدار کی ایک عورت بنت ابی تجراۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں قریشی عورتوں کے ساتھ دار آل ابی حسین میں داخل ہوئی، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے اور آپ صفا ومروہ کی سعی فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سعی کرتے ہوئے دیکھا اور آپ کا ازار تیز سعی کرنے کی وجہ سے گھوم رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہہ رہی تھی کہ اب آپ کے گھٹنے میں دیکھ لوں گی اور میں نے آپ کو یہ کہتے سنا: «اسْعَوْا، فَإِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ» ”سعی کرو، یقیناً اللہ نے تم پر سعی فرض کی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9366]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ حاكم 4/ 79»
الحكم على الحديث: ضعيف