🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2019. -- باب: الدفع من المزدلفة قبل طلوع الشمس
-- باب: سورج طلوع ہونے سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9519
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِجَمْعٍ بَعْدَمَا صَلَّى الصُّبْحَ وَقَفَ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَيَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ، وَإَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس صبح کی نماز کے بعد جمع میں حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: مشرکین سورج طلوع ہونے سے پہلے نہیں لوٹتے تھے اور وہ کہتے تھے: «أَشْرِقْ ثَبِيرُ» ”اے ثبیر! روشن ہو جا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوعِ شمس سے پہلے لوٹے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9519]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1600۔ ابوداود 1938»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9520
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أَنْبَأَ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً مِنْ حِفْظِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ لِي أَيُّوبُ وَنَحْنُ هَا هُنَا: اذْهَبْ بِنَا إِلَى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يَنْفِرُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ مَعْمَرٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ أَيُّوبَ حَتَّى أَتَيْنَا فُسْطَاطَهُ فَإِذَا عِنْدَهُ قَوْمٌ مِنَ الْعَلَوِيَّةِ وَهُوَ يَتَحَدَّثُ مَعَهُمْ فَلَمَّا بَصُرَ بِأَيُّوبَ قَامَ، فَخَرَجَ مِنْ فُسْطَاطِهِ حَتَّى اعْتَنَقَ أَيُّوبَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ فَحَوَّلَهُ إِلَى فُسْطَاطٍ آخَرَ، قَالَ مَعْمَرٌ: كَرِهَ أَنْ يُجْلِسَهُ مَعَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِطَبَقٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ يُنَاوِلُ أَيُّوبَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبُوا إِلَى هَؤُلَاءِ بِطَبَقٍ فَإِنَّا إِنْ بَعَثْنَا إِلَيْهِمْ تَرَكُونَا وَإِلَّا شَنَّعُوا عَلَيْنَا، فَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ: مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكَ؟ قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ أَمَرْتَ النَّاسَ أَنْ لَا يَدْفَعُوا مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، خِلَافَ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ" وَلَكِنَّ النَّاسَ يَحْمِلُونَ عَلَيْنَا وَيَرْوُونَ عَنَّا مَا لَا نَقُولُ، وَيَزْعُمُونَ أَنَّ عِنْدَنَا عِلْمًا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ، وَاللهِ إنَّ عِنْدَ بَعْضِ النَّاسِ لَعِلْمًا لَيْسَ عِنْدَنَا وَلَكِنْ لَنَا حَقٌّ وَقَرَابَةٌ، فَلَمْ يَزَلْ يَذْكُرُ مِنْ حَقِّهِمْ وَقَرَابَتِهِمْ حَتَّى رَأَيْتُ الدَّمْعَ يَجْرِي مِنْ عَيْنِ أَيُّوبَ.
معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے ایوب رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمارے ساتھ جعفر بن محمد رحمہ اللہ کے خیمے میں آؤ، کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے جمع سے نہ نکلو۔“ معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایوب رحمہ اللہ کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم ان کے خیمے پر پہنچے تو ان کے پاس علوی قوم کے لوگ موجود تھے اور وہ ان کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ جب انہوں نے ایوب رحمہ اللہ کو دیکھا تو کھڑے ہوئے اور خیمے سے نکلے، ایوب رحمہ اللہ کے ساتھ معانقہ کیا، پھر ان کا ہاتھ پکڑا اور ان کو لے کر دوسرے خیمے کی طرف گئے، معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے ان کو ان لوگوں کے ساتھ بٹھانا مناسب نہ سمجھا، پھر کھجوروں کا تھال منگوایا اور ایوب رحمہ اللہ کے ہاتھ میں پکڑانے لگے، پھر کہا: ”ان لوگوں کی طرف طبق لے جاؤ، اگر ہم ان کی طرف بھیجیں تو وہ ہمیں چھوڑ دیں گے اور اگر نہ بھیجیں تو ہمیں برا کہیں گے۔“ تو اس پر ایوب رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ کیا بات ہے جو مجھے آپ کے بارے میں پہنچی ہے؟“ کہنے لگے: ”کیا پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ لوگوں کو کہتے ہیں کہ جمع سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نہ نکلو۔“ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے، مجھے میرے والد نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمع سے سورج طلوع ہونے سے پہلے نکلے، لیکن لوگ ہم پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ہم سے وہ کچھ روایت کرتے ہیں جو ہم نے نہیں کہا اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ علم ہے جو لوگوں کے پاس نہیں ہے، اللہ کی قسم! بعض لوگوں کے پاس ایسا علم ہے، جو ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے لیے حق ہے اور قرابت ہے“ اور وہ اپنا حق اور قرابت بیان کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ایوب رحمہ اللہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے دیکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9520]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9521
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَنْسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ⦗٢٠٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَهْلَ الشِّرْكِ وَالْأَوْثَانِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَى رُءُوسِهَا، هَدْيُنَا مُخَالِفٌ هَدْيَهُمْ، وَكَانُوا يَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَى رُءُوسِهَا، هَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِهِمْ" رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَ:" هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ" ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! یقیناً مشرک اور بت پرست یہاں سے سورج غروب ہونے کے قریب جاتے تھے حتیٰ کہ سورج پہاڑوں کے سروں پر ایسے ہوتا جیسے پگڑیاں آدمیوں کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقے کے مخالف ہے اور وہ مشعر حرام سے سورج کے پہاڑوں کے سروں پر طلوع ہونے کے وقت جاتے جس طرح آدمیوں کی پگڑیاں ان کے سروں پر ہوتی ہیں اور ہمارا طریقہ ان کے طریقہ کے مخالف ہے۔“
اس حدیث کو عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے محمد بن قیس بن مخرمہ کے واسطے سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو (اس میں) فرمایا: «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» ”یہ حج اکبر کا دن ہے۔“ پھر اس کے بعد والی حدیث اس کے ہم معنی مرسل ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9521]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ حاكم 2/ 304۔ طبراني كبير 28»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9522
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاقِفًا عَلَى قُزَحَ وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ أَصْبِحُوا أَيُّهَا النَّاسُ أَصْبِحُوا"، ثُمَّ دَفَعَ فَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى فَخِذِهِ قَدِ انْكَشَفَتْ مِمَّا يُحِرِّشُ بَعِيرَهُ بِمِحْجَنِهِ.
جبیر بن حویرث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قزح پر کھڑے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے: اے لوگو! صبح کرو، اے لوگو! صبح کرو، پھر وہ چلے گئے اور میں ان کی ران کو کھلا ہوا دیکھ رہا تھا، اپنے اونٹ کو لاٹھی کے ساتھ بھگانے کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9522]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ شافعي 1726۔ ابن ابي شيبه 15325»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں