السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2024. -- باب: رمي الجمرة من بطن الوادي، وكيفية الوقوف للرمي
-- باب: وادی کے نشیب سے جمرہ کی رمی کرنے اور رمی کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9547
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، قَالَ: وَثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَلِّفُوا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السُّورَةُ الَّتِي تُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي تُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، قَالَ: فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ فَسَبَّهُ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ فَاسْتَعْرَضَهَا فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ:" هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ"، ⦗٢١١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ.
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ قرآن کو ایسے تالیف کرو جیسے جبریل علیہ السلام نے کیا ہے: وہ سورہ جس میں گائے کا ذکر ہے، وہ سورہ جس میں نساء کا ذکر ہے، وہ سورہ جس میں آل عمران کا ذکر ہے؛ تو میں ابراہیم رحمہ اللہ کو ملا اور ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے اس کو برا بھلا کہا، پھر فرمایا: مجھے عبدالرحمن بن یزید نے خبر دی کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمرہ عقبہ پر تھے، جب وہ وہاں پہنچے تو وادی کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور اس کو سامنے رکھ کر سات چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، میں نے کہا: لوگ تو ان کو اوپر سے مارتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے! یہ اس شخص کا مقام ہے جس پر سورہ البقرہ اتری۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9547]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 163۔ مسلم 1296»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9548
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيِّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَقَالَ:" هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ فَلَمَّا أَتَى مِنًى جَعَلَ مِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَالْبَيْتَ عَلَى يَسَارِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَقَالَ:" هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَبِي عُمَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ شُعْبَةَ.
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم جمرۂ کبریٰ کے پاس پہنچے تو انہوں نے بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف کیا اور منیٰ کو دائیں طرف اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں اور فرمایا: جس پر ﴿سورة البقرة﴾ اتری ہے، اس نے اسی طرح مارا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9548]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1661۔ مسلم 1296»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9549
وَحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ مِنْ جَمْعٍ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي، نَاوِلْنِي سَبْعَةَ أَحْجَارٍ" فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ:" اللهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا" ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَنَعَ".
محمد بن عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ”میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع سے لوٹا تو وہ تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو مارا، پھر وادی کے درمیان میں ہوئے اور کہا: اے میرے بھتیجے! مجھے سات پتھر پکڑاؤ، تو انھوں نے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو کہا: اے اللہ! اس حج کو مقبول بنا لے اور گناہوں کو معاف فرما دے۔ پھر کہا: میں نے اسی طرح کرتے ہوئے اس ذات صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9549]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ابي شيبه 14016»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 9550
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَكِيمِ بْنِ الْأَزْهَرِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، ثُمَّ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا وَعَمَلًا مَشْكُورًا فَسَأَلْتُهُ عَمَّا صَنَعَ، فَقَالَ:" حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ وَيَقُولُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ مِثْلَ مَا قُلْتُ" عَبْدُ اللهِ بْنُ حَكِيمٍ ضَعِيفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کو دیکھا، وہ وادی میں اترے پھر جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، اے اللہ! اس کو مقبول حج بنا دے اور گناہوں کو معاف فرما دے اور عمل کی قدر فرما“، تو جو انہوں نے کہا: میں نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو کہنے لگے کہ میرے والد رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کو یہیں سے مارتے تھے اور جب بھی کنکری مارتے اسی طرح کہتے جیسے میں نے کہا ہے۔
عبداللہ بن حکیم ضعیف ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9550]
عبداللہ بن حکیم ضعیف ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9550]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر