السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2033. -- باب: ما يحل بالتحلل الأول من محظورات الإحرام
-- باب: تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) سے احرام کی جو پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 9600
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، وَأُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَدُورُ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ لَيْلَةِ النَّحْرِ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، وَرَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَضْتُمَا؟" قَالَا: لَا، قَالَ:" فَانْزِعَا قَمِيصَكُمَا" فَنَزَعَاهَا، فَقَالَ لَهُ وَهْبٌ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" هَذَا يَوْمٌ أُرَخِّصُ لَكُمْ فِيهِ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ وَنَحَرْتُمْ هَدْيًا إِنْ كَانَ لَكُمْ فَقَدْ حَلَلْتُمْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ وَلَمْ تُفِيضُوا صِرْتُمْ حُرُمًا كَمَا كُنْتُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نحر والی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے پاس تھی تو میرے پاس وہب بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور ابن امیہ کا ایک اور آدمی آیا، انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، ان دونوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی یہ قمیصیں اتار دو۔“ تو انہوں نے اتار دیں۔ وہب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن اللہ تعالیٰ نے تمہیں رخصت دی ہے کہ جب تم رمی کر لو اور اگر قربانی ہے تو وہ بھی کر لو تو پھر تم ہر چیز سے حلال ہو جو تم پر حرام ہوئی تھی عورتوں کے علاوہ حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کر لو، تو جب شام ہو جائے اور تم نے افاضہ نہ کیا ہو تو تم پھر محرم بن جاؤ گے جیسے کہ تم پہلے تھے، حتیٰ کہ طوافِ افاضہ کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9600]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 1999۔ احمد 6/ 295۔ ابن خزيمه 2958»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9601
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلِيَّ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ فَصَارَ إِلِيَّ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ:" هَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللهِ؟" قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ" فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ، قَالَا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ صِرْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا" قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ، قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينِ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً أَوْ قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَّاشَةُ مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينِ، ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ فَقَالَ: خَيْرٌ يَا أُمَّ قَيْسٍ كَانَ هَذَا يَوْمًا رَخَّصَ ⦗٢٢٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ جَعَلْنَا قُمُصَنَا عَلَى أَيْدِينَا، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ دُونَ الْإِسْنَادِ الثَّانِي، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الذَّبْحَ أَيْضًا.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یومِ نحر کی شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے گھر باری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور وہب بن زمعہ اور آلِ ابی امیہ کا ایک شخص قمیص پہنے ہوئے داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا: ”ابوعبداللہ! کیا تو نے افاضہ کر لیا ہے؟“ کہنے لگا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی قمیص اتار دے۔“ تو اس نے سر کی جانب سے اتار دی اور اس کے ساتھی نے بھی۔ ان دونوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن تمہیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم رمیِ جمار کر لو تو ہر وہ چیز جو تم پر حرام تھی تمہارے لیے عورتوں کے سوا حلال ہو جائے گی۔ لیکن جب شام ہو جائے اور بیت اللہ کا طواف ابھی تک نہ کیا ہو تو تم پہلے کی طرح پھر حرام ہو جاؤ گے، جس طرح تم رمیِ جمار کرنے سے پہلے تھے، حتیٰ کہ طواف کر لو۔“
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں، فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ یومِ النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے عکاشہ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: خیریت ہے اے ام قیس! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی تھی کہ ”جب ہم رمیِ جمار سے فارغ ہو جائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہو گئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں، پس جب شام ہو گئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔“
اسی طرح اس کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انہوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9601]
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں، فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ یومِ النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے عکاشہ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: خیریت ہے اے ام قیس! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی تھی کہ ”جب ہم رمیِ جمار سے فارغ ہو جائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہو گئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں، پس جب شام ہو گئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔“
اسی طرح اس کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انہوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9601]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن