السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2066. -- باب: ما يفسد الحج
-- باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9788
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي قَبْلَ أَنْ أَزُورَ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَتْ أَعَانَتْكَ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا نَاقَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ، وَإِنْ كَانَتْ لَمْ تُعِنْكَ فَعَلَيْكَ نَاقَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ" وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ أَنَّهُ قَالَ:" يُتِمَّانِ حَجَّهُمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَإِنْ كَانَ ذَا مَيْسَرَةٍ أَهْدَى جَزُورًا"، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ" يَفْتَرِقَانِ وَلَا يَجْتَمِعَانِ حَتَّى يَفْرُغَا مِنْ حَجِّهِمَا".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، یعنی مجامعت کر لی، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیری مدد کی ہے تو پھر تم دونوں پر ایک بہترین خوبصورت اونٹنی کی قربانی ہے۔ اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیرا تعاون نہیں کیا تو پھر صرف تیرے ذمہ ایک خوبصورت اور بہترین اونٹنی کی قربانی ہے۔
(ب) جابر بن زید ابو شعثاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس حج کو پورا کریں اور آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مال دار ہیں تو ایک اونٹ کی قربانی بھی کریں۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں جدا ہوں گے اور حج کو مکمل کرنے تک اکٹھے نہ ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9788]
(ب) جابر بن زید ابو شعثاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس حج کو پورا کریں اور آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مال دار ہیں تو ایک اونٹ کی قربانی بھی کریں۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں جدا ہوں گے اور حج کو مکمل کرنے تک اکٹھے نہ ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9788]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9789
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا، قَالَ سَعِيدٌ: إِنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ النَّاسِ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَى عَامِ قَابِلٍ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ:" لِيَنْفُذَا لِوُجُوهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَا، فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا، وَإِذَا أَدْرَكَهُمَا الْحَجُّ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْيُ، وَيُهِلَّا مِنْ حَيْثُ كَانَا أَهَلَّا بِحَجِّهِمَا الَّذِي كَانَا أَفْسَدَا وَيَتَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ اس شخص کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے؟ تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک محرم آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تو اس نے ان کو مدینہ روانہ کیا کہ اس کے بارے میں سوال کرے، تو کچھ لوگوں نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک ان میں کروا دی جائے، تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی حالت پر ہی رہیں گے، لیکن وہ حج پورا کریں گے جو ان دونوں نے خراب کیا، پھر جب ان کو حج کا فریضہ پا لے تو ان پر حج اور قربانی کرنا ہے، پھر وہاں سے حج کا تلبیہ کہنا شروع کریں جہاں سے پہلے حج کا تلبیہ کہنا شروع کیا تھا، جس کو انہوں نے باطل کر دیا اور وہ دونوں جدا رہیں گے یہاں تک کہ حج مکمل کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9789]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 855»
الحكم على الحديث: صحيح