السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2107. -- باب: كراهية قطع الشجر بكل موضع حماه النبي صلى الله عليه وسلم
-- باب: ہر اس جگہ کے درخت کاٹنے کی کراہت کا بیان جسے نبی ﷺ نے چراگاہ (حرم) قرار دیا ہو۔
حدیث نمبر: 9978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَوْ قَالَ: مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُخْبَطْ وَلَا يُعْضَدْ حِمَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا" كَذَا قَالَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چراگاہ کے نہ تو پتے جھاڑے جائیں گے اور نہ ہی درخت کاٹے جائیں گے، لیکن نرمی سے پتے گرائے جاسکتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9978]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9979
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبُعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السُّرِّيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرِّبْعِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لَنَا غَنَمًا وَغِلْمَانًا وَهُمْ يَخْبِطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ مِنْ هَذِهِ الثَّمَرَةِ الْحَبَلَةِ"، قَالَ خَارِجَةُ: وَهِيَ ثَمَرَةُ السَّمُرَةِ، قَالَ جَابِرٌ:" لَا ثُمَّ لَا، لَا يُخْبَطْ وَلَا يُعْضَدْ حِمَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ هُشُّوا هَشًّا"، قَالَ جَابِرٌ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّهُ قَالَ: يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ الْمَسَدُ" قَالَ جَابِرٌ: وَالْمَسَدُ: مِرْوَدٌ لِلْبَكْرَةِ، قَالَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ: الْحِمَى حَوْلَ الْمَدِينَةِ.
خارجہ بن حارث اپنے والد حارث بن رافع بن مکیث جہنی سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہماری بکریاں ہیں اور غلام ہیں، وہ اپنی بکریوں کے لیے اس حبلہ پھل (والے درخت) سے پتے جھاڑتے ہیں۔ خارجہ کہتے ہیں: یہ ببول کے درخت کا پھل ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، پھر نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چراگاہ کے نہ پتے جھاڑے جائیں اور نہ درخت کاٹے جائیں، لیکن آرام و سکون سے پتے گرا لو۔“ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “، میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: ”مسد کاٹنے سے منع فرماتے تھے۔“ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مسد چرخی کا دھرا (محور) ہوتا ہے۔ ابن ابی اویس کہتے ہیں: یہ چراگاہ مدینہ کے اردگرد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9979]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد 1/ 48»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9980
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَكَانَ يَلِي أَرْضًا لِعُثْمَانَ فِيهَا بَقْلٌ وَقِثَّاءٌ، قَالَ: فَرُبَّمَا أَتَانِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نِصْفَ النَّهَارِ وَاضِعًا ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِهِ يَتَعَاهَدُ الْحِمَى أَنْ لَا يُعْضَدَ شَجَرُهُ وَلَا يُخْبَطَ، قَالَ: فَيَجْلِسُ إِلِيَّ فَيُحَدِّثُنِي وَأُطْعِمُهُ مِنَ الْقِثَّاءِ وَالْبَقْلِ، فَقَالَ لِي يَوْمًا:" أَرَاكَ لَا تَخْرُجُ مِنْ هَا هُنَا"، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ:" إِنِّي أَسْتَعْمِلُكَ عَلَى مَا هَا هُنَا فَمَنْ رَأَيْتَ يَعْضِدُ شَجَرًا، أَوْ يَخْبِطُ فَخُذْ فَأْسَهُ وَحَبْلَهُ"، قَالَ: قُلْتُ: آخُذُ رِدَاءَهُ؟، قَالَ:" لَا".
محمد بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک زمین کی دیکھ بھال کرتے تھے جس میں ترکاریاں اور ککڑیاں تھیں، کہتے ہیں: بعض اوقات میرے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت تشریف لاتے اور اپنا کپڑا سر پر رکھے ہوئے ہوتے، چراگاہ کی دیکھ بھال فرماتے کہ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ پتے جھاڑے جائیں، راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتے اور میرے ساتھ باتیں کرتے، میں ان کو ککڑیاں اور ترکاریاں کھلاتا، انہوں نے ایک دن مجھ سے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ یہاں سے نہیں نکلتے، کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، فرمانے لگے: میں تجھے یہاں کا عامل بناتا ہوں، جس کو تو دیکھے کہ وہ درخت کاٹتا ہے یا پتے جھاڑتا ہے تو اس کا کلہاڑا اور رسی پکڑ لینا، کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا میں اس کی چادر لے لوں؟ فرمانے لگے: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9980]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 2/ 155»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9981
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى الْبَقِيعَ لِلْخَيْلِ" وَرُوِّينَا ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ.
نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع کو گھوڑوں کے لیے چراگاہ مقرر فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9981]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1374»
الحكم على الحديث: صحيح