🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2142. -- باب:: لا محل للهدي في غير الإحصار دون الحرم لقوله عز وجل ثم محلها إلى البيت العتيق
-- باب: احصار (روکے جانے) کے علاوہ ہدی کی قربانی کا مقام حرم کے سوا کوئی اور نہیں ہے، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ”پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ بیتِ عتیق (خانہ کعبہ) تک ہے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q10166
لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: 33] .
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ ”پھر ان (قربانی کے جانوروں) کے ذبح ہونے کی جگہ اسی قدیم گھر (بیت اللہ) کے پاس ہے۔“ [سورة الحج: 33] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: Q10166]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10166
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" مَنْ نَذَرَ بَدَنَةً فَإِنَّهُ يُقَلِّدُهَا نَعْلَيْنِ وَيُشْعِرُهَا ثُمَّ يَسُوقُهَا حَتَّى يَنْحَرَهَا عِنْدَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ أَوْ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لَيْسَ لَهَا مَحِلٌّ دُونَ ذَلِكَ وَمَنْ نَذَرَ جَزُورًا مِنَ الْإِبِلِ، أَوِ الْبَقَرِ فَلْيَنْحَرْهَا حَيْثُ شَاءَ".
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ ”پھر ان (قربانی کے جانوروں) کے ذبح ہونے کی جگہ اسی قدیم گھر (بیت اللہ) کے پاس ہے۔“ [سورة الحج: 33] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10166]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه مالك 409»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10167
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ بَدَنَةٍ جَعَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَلَيْهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ:" الْبُدْنُ مِنَ الْإِبِلِ وَمَحِلُّ الْبُدْنِ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمَّتْ مَكَانًا مِنَ الْأَرْضِ فَلْتَنْحَرْهَا حَيْثُ سَمَّتْ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ بَدَنَةً فَبَقَرَةٌ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ بَقَرَةً فَعَشْرٌ مِنَ الْغَنَمِ" قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَعِيدٌ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بَقَرَةٌ فَسَبْعٌ مِنَ الْغَنَمِ"، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَالِمٌ. قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَالِمٌ.
سیدنا عمرو بن عبداللہ انصاری رحمہ اللہ نے سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس قربانی کے متعلق سوال کیا جو ایک عورت نے اپنے اوپر لازم کر لی تھی، سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اونٹ کی قربانی تو بیت اللہ لے جا کر کی جائے گی، اگر اس نے کسی جگہ کا نام لیا ہے کہ فلاں جگہ قربانی کرے گی تو پھر اس کو اسی جگہ ہی کرنی چاہیے، اگر اونٹ نہ پائے تو پھر گائے کی قربانی کرے، اگر گائے نہ مل سکے تو اس کی جگہ دس بکریاں قربان کرے، راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ والی بات کہی، لیکن اتنا فرق تھا کہ اگر گائے نہ ملے تو اس کے عوض سات بکریاں ذبح کرے، راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ والی بات کہہ دی، پھر میں سیدنا عبداللہ بن محمد بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی سیدنا سالم رحمہ اللہ والی بات ہی کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10167]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3926»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں