السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2148. -- باب: الاشتراك في الهدي
-- باب: قربانی (ہدی) میں شریک ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10202
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، قَالَ:" كُنَّا يَوْمَئِذٍ أَلْفًا وَثَلَثمِائَةٍ وَكَانَتْ أَسْلَمُ يَوْمَئِذٍ ثُمُنَ الْمُهَاجِرِينَ" ⦗٣٨٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ، وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا إِلَى رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَعَمْرٌو هَذَا هُوَ ابْنُ مُرَّةَ، وَالْأَشْبَهُ رِوَايَةُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَكُلُّهُمْ شَهِدُوا الْحُدَيْبِيَةَ إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةٍ عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ أَوْ أَكْثَرَ فَكَأَنَّهُمْ كَانُوا يَشُكُّونَ فِي الزِّيَادَةِ، أَوْ بَعْضُ الرُّوَاةِ إِلَى الْبَرَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ بَيَّنَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَةِ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْهُ أَنَّهُمْ نَحَرُوا الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ فَكَأَنَّهُمْ نَحَرُوا السَّبْعِينَ عَنْ بَعْضِهِمْ وَنَحَرُوا الْبَقَرَ عَنْ بَاقِيهِمْ عَنْ كُلِّ سَبْعَةٍ وَاحِدَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمرو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ بیعت رضوان میں شامل تھے، فرماتے ہیں کہ ہم اس دن 1300 آدمی تھے اور اس دن قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھا۔
(ب) یہ عمرو، ابن مرہ ہیں، اور زیادہ درست عمرو بن دینار کی جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اسی طرح معقل بن یسار، سلمہ بن اکوع اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے اور یہ تمام حضرات حدیبیہ میں شامل تھے، لیکن براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ وہ حدیبیہ کے دن 1400 یا زیادہ تھے۔ گویا کہ وہ زیادتی میں شک کرتے تھے یا (یہ شک) براء تک کے بعض راویوں کا ہے۔ اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ابوزبیر کی ان سے روایت میں وضاحت کی ہے کہ انہوں نے اونٹ سات آدمیوں کی جانب سے اور گائے سات کی جانب سے نحر کی، گویا کہ انہوں نے ستر اونٹ بعض کی جانب سے نحر کیے اور باقی لوگوں کی جانب سے گائیں، ہر سات کی جانب سے ایک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10202]
(ب) یہ عمرو، ابن مرہ ہیں، اور زیادہ درست عمرو بن دینار کی جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اسی طرح معقل بن یسار، سلمہ بن اکوع اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے اور یہ تمام حضرات حدیبیہ میں شامل تھے، لیکن براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ وہ حدیبیہ کے دن 1400 یا زیادہ تھے۔ گویا کہ وہ زیادتی میں شک کرتے تھے یا (یہ شک) براء تک کے بعض راویوں کا ہے۔ اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ابوزبیر کی ان سے روایت میں وضاحت کی ہے کہ انہوں نے اونٹ سات آدمیوں کی جانب سے اور گائے سات کی جانب سے نحر کی، گویا کہ انہوں نے ستر اونٹ بعض کی جانب سے نحر کیے اور باقی لوگوں کی جانب سے گائیں، ہر سات کی جانب سے ایک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10202]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي905»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10203
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرِنَا فَحَضَرْنَا النَّحْرَ فَاشْتَرَكْنَا فِي الْجَزُورِ عَشَرَةٌ وَالْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ" كَذَا رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ وَشَهِدَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَأَخْبَرَنَا بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِاشْتَرَاكِ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً الْبَدَنَةُ عَنْ عَشَرَةٍ" وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا وَهْمًا فَقَدْ رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ وَقَالَ: الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالُوا: الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَرَجَّحَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ رِوَايَتَهُمْ لَمَّا خَرَّجَهَا دُونَ رِوَايَةِ غَيْرِهِمْ وَأَمَّا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ تَفَرَّدَ بِذِكْرِ الْبَدَنَةِ عَنْ عَشَرَةٍ فِيهِ، وَحَدِيثُ عِكْرِمَةَ يَتَفَرَّدُ بِهِ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ مِنْ جَمِيعِ ذَلِكَ وَأَخْبَرَ بِاشْتِرَاكِهِمْ فِيهَا فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَبِالْحُدَيْبِيَةِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، قربانی کا دن آگیا تو اونٹ کی قربانی میں دس اور گائے کی قربانی میں سات آدمی شریک ہوئے۔“
(ب) اس سند سے اسی طرح روایت کیا گیا ہے، لیکن ابوزبیر کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت اس سے زیادہ صحیح ہے، وہ حدیبیہ میں اور حج و عمرہ میں موجود تھے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اونٹ کی قربانی میں سات آدمیوں کے شریک ہونے کا حکم دیا“، لہٰذا وہی قبول کیے جانے کے زیادہ لائق ہے۔
(ج) سفیان ثوری کے واسطے سے ابوزبیر سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی گئی ہے کہ ”ہم نے حدیبیہ کے دن 70 اونٹ نحر کیے، ایک اونٹ دس کی جانب سے تھا“، میں اسے وہم ہی سمجھتا ہوں، کیونکہ فریابی نے ثوری سے نقل کیا ہے کہ اونٹ سات کی جانب سے ہے۔ اسی طرح مالک بن انس، ابن جریج، زہیر بن معاویہ وغیرہ نے ابوزبیر کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ اونٹ سات کی جانب سے ہے، اور عطاء بن ابی رباح نے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی نقل کیا ہے، اور مسلم بن حجاج نے دوسروں کی روایت کے بجائے انہی کی روایت نقل کر کے اسے ترجیح دی ہے۔
(د) رہی زہری کی عروہ سے حدیث تو اس میں اونٹ دس کی جانب سے بیان کرنے میں محمد بن اسحاق بن یسار اکیلے ہیں، اور عکرمہ کی حدیث کو صرف حسین بن واقد، علباء بن احمر سے روایت کرتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان تمام سے زیادہ صحیح ہے، انہوں نے حج، عمرہ اور حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے (قربانی میں) شریک ہونے کی خبر دی ہے، لہٰذا وہی قبول کیے جانے کے زیادہ لائق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10203]
(ب) اس سند سے اسی طرح روایت کیا گیا ہے، لیکن ابوزبیر کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت اس سے زیادہ صحیح ہے، وہ حدیبیہ میں اور حج و عمرہ میں موجود تھے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اونٹ کی قربانی میں سات آدمیوں کے شریک ہونے کا حکم دیا“، لہٰذا وہی قبول کیے جانے کے زیادہ لائق ہے۔
(ج) سفیان ثوری کے واسطے سے ابوزبیر سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی گئی ہے کہ ”ہم نے حدیبیہ کے دن 70 اونٹ نحر کیے، ایک اونٹ دس کی جانب سے تھا“، میں اسے وہم ہی سمجھتا ہوں، کیونکہ فریابی نے ثوری سے نقل کیا ہے کہ اونٹ سات کی جانب سے ہے۔ اسی طرح مالک بن انس، ابن جریج، زہیر بن معاویہ وغیرہ نے ابوزبیر کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ اونٹ سات کی جانب سے ہے، اور عطاء بن ابی رباح نے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی نقل کیا ہے، اور مسلم بن حجاج نے دوسروں کی روایت کے بجائے انہی کی روایت نقل کر کے اسے ترجیح دی ہے۔
(د) رہی زہری کی عروہ سے حدیث تو اس میں اونٹ دس کی جانب سے بیان کرنے میں محمد بن اسحاق بن یسار اکیلے ہیں، اور عکرمہ کی حدیث کو صرف حسین بن واقد، علباء بن احمر سے روایت کرتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان تمام سے زیادہ صحیح ہے، انہوں نے حج، عمرہ اور حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے (قربانی میں) شریک ہونے کی خبر دی ہے، لہٰذا وہی قبول کیے جانے کے زیادہ لائق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10203]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1604»
الحكم على الحديث: صحيح