السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2161. -- باب: ما لا يجزي من العيوب في الهدايا
-- باب: ہدی (قربانی کے جانور) میں ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 10246
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: حَدِّثْنِي عَمَّا كَرِهَ أَوْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعٌ لَا تُجْزِي فِي الْأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى" قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى غَيْرِكَ.
عبید بن فیروز کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ مجھے بیان کریں کون سے عیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں میں مکروہ سمجھے یا منع فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو اس طرح کیا اور میرا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار قسم کے عیب قربانیوں میں نہیں ہونے چاہییں: 1 کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ 2 بیمار جس کا مرض واضح ہو۔ 3 لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔ 4 ٹوٹی ہوئی ہڈی جس کا گودہ، مغز ظاہر نہ ہو۔“ وہ کہتے ہیں: میں کان اور سینگ میں عیب کو ناپسند کرتا ہوں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس کو تو ناپسند کرے اسے چھوڑ دے، لیکن کسی دوسرے کے اوپر اس کو حرام نہ کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10246]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 2802»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10247
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَأَى هَدْيًا له فِيهَا نَاقَةٌ عَوْرَاءُ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ أَصَابَهَا بَعْدَ مَا اشْتَرَيْتُمُوهَا فَأَمْضُوهَا، وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ تَشْتَرُوهَا فَأَبْدِلُوهَا".
ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی قربانیاں دیکھیں، ان میں ایک کانی اونٹنی تھی، فرمانے لگے: اگر خریدنے کے بعد کوئی عیب پیدا ہو تو اس کو قربان کر دو، اگر عیب خریدنے سے پہلے ہو تو تبدیل کر لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10247]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح