السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2217. -- باب:: المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار
-- باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
حدیث نمبر: 10450
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ أَبُو عِمْرَانَ، ثنا الرَّمَادِيُّ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأنا أَبُو الْقَاسِمِ، ثنا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، قَالُوا: ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، بِهَذَا قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ أَيْضًا وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِمَعْنَاهُ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10450]
حدیث نمبر: 10451
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: قَالَ جَرِيرٌ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" قَالَ: فَكَانَ جَرِيرٌ إِذَا بَايَعَ إِنْسَانًا شَيْئًا، قَالَ:" أَمَا إِنَّمَا أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَ فَاخْتَرْ"، يُرِيدُ بِذَلِكَ إِتْمَامَ بَيْعَتِهِ..
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سننے، اطاعت کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی، جب بھی جریر رضی اللہ عنہ کسی سے بیع کرتے تو کہتے: جو ہم نے تجھ سے لیا ہے یہ ہمیں زیادہ محبوب ہے اس سے جو تجھے دیا ہے، تجھے اختیار ہے۔ ان کا ارادہ بیع کو مکمل کرنے کا ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10451]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 4945»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10452
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا يُونُسُ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: يُرِيدُ بِذَلِكَ إِتْمَامَ بَيْعَتِهِ.
یونس رحمہ اللہ نے بھی اس کی مثل ذکر کیا ہے، لیکن «يُرِيدُ بِذٰلِكَ إِتْمَامَ بَيْعَتِهِ» ”اس سے ان کی مراد اپنی بیعت کی تکمیل تھی“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10452]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: الْحَدِيثُ فِي الْبَيِّعَيْنِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَثْبَتُ مِنْ هَذِهِ الْأَسَاطِينِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ الْكُوفِيِّينَ بِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: الْبَيِّعَيْنِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا قَالَ: فَحَدَّثُوا بِهِ أَبَا حَنِيفَةَ، فَقَالَ ⦗٤٤٧⦘ أَبُو حَنِيفَةَ: هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَا فِي سَفِينَةٍ؟، قَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ اللهَ سَائِلُهُ عَمَّا قَالَ.
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ حدیث «الْبَیِّعَيْنِ بِالْخِیَارِ» الخ ”دو بیع کرنے والے اختیار سے ہیں یا دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں“ ان ستونوں سے زیادہ ثابت ہے۔
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے کوفیوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «فِي الْبَيِّعَيْنِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» بیان کی۔ انہوں نے یہ حدیث ابوحنیفہ سے بیان کی تو ابوحنیفہ نے کہا: یہ کچھ بھی نہیں، بتاؤ اگر وہ دونوں ایک کشتی میں ہوں تو؟ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ اس سے اس بات کے بارے میں سوال کرے گا جو اس نے کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10453]
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے کوفیوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «فِي الْبَيِّعَيْنِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» بیان کی۔ انہوں نے یہ حدیث ابوحنیفہ سے بیان کی تو ابوحنیفہ نے کہا: یہ کچھ بھی نہیں، بتاؤ اگر وہ دونوں ایک کشتی میں ہوں تو؟ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ اس سے اس بات کے بارے میں سوال کرے گا جو اس نے کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10453]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح