السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2236. -- باب: اعتبار التماثل فيما كان موزونا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بالوزن وفيما كان مكيلا على عهده بالكيل إذا بيع الجنس الواحد فيما يجري فيه الربا بعضه ببعض
-- باب: نبی ﷺ کے عہدِ مبارک میں وزن کی جانے والی اشیاء کا وزن کے اعتبار سے، اور ماپی جانے والی اشیاء کا ماپ کے اعتبار سے برابر ہونا ضروری ہے، جب ان چیزوں میں سے ایک ہی جنس کی ایک دوسرے کے عوض بیع کی جائے جن میں سود جاری ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 10541
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ شَاهَدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ كَيْلًا بِكَيْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ كَيْلًا بِكَيْلٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى".
ابوالاشعث، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھے، جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، فرماتے ہیں کہ: ”سونا سونے کے بدلے برابر برابر، اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر وزن، اور گندم گندم کے بدلے برابر ماپ، اور جو جو کے بدلے برابر ماپ، اور کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے سود وصول کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10541]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 10505»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10542
وَرَوَى بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ ⦗٤٧٦⦘ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ فَذَكَرَهُ وَقَالَ: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
قتادہ رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے اس کی ڈلیاں اور اصل، چاندی چاندی کے بدلے اس کی ڈلی اور اصل، گندم گندم کے بدلے، مد مد کے عوض، جَو جَو کے بدلے، مد مد کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، مد مد کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے، مد مد کے بدلے۔ جس نے زیادہ کیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے سود وصول کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10542]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10543
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟" قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر پر عامل مقرر کیا، وہ عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا خیبر کی تمام کھجوریں اس طرح کی ہیں؟“ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس طرح کی نہیں ہیں، بلکہ ہم دو صاع دے کر ایک صاع اور تین صاع دے کر دو صاع وصول کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، ردی کو درہموں کے بدلے فروخت کر کے پھر درہموں سے عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10543]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4001»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10544
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَكُنَّا نَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ".
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ملی جلی کھجوروں کا رزق دیے گئے یعنی وہ ملی جلی ہی ہوتی تھیں تو ہم دو صاع کے بدلے ایک صاع لے لیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ ایک درہم دو درہم کے عوض بھی نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10544]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1974»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10545
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.
عبید اللہ بن موسیٰ شیبان سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو فرمایا: ”کھجور کے دو صاع کے بدلے ایک صاع، نہ گندم کے دو صاع کے بدلے ایک صاع اور نہ ہی دو درہم کے بدلے ایک درہم لینا جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10545]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح