السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2246. -- باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار
-- باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10605
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللهِ بْنُ رَاشِدِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ الْمُبْتَاعُ: إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الْعَفَنُ الدُّمَانُ، أَصَابَهُ مَرَاقٌ، أَصَابَهُ قُشَامٌ، عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا، وَالْقُشَامُ شَيْءٌ يُصِيبُهُ حَتَّى لَا يَرْطَبَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ:" فَأَمَّا لَا فَلَا تَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرِ" كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا؛ لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَمْوَالِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَسْتَبِينَ الْأَحْمَرُ مِنَ الْأَصْفَرِ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: مُرَاضٌ بَدَلَ مَرَاقٍ، قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الدُّمَانُ: أَنْ تَنْشَقَّ النَّخْلَةُ أَوَّلَ مَا يَبْدُو قَلْبُهَا عَنْ عَفَنٍ وَسَوَادٍ، قَالَ: وَالْقُشَامُ أَنْ يُنْتَقَصَ ثَمَرُ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ يَصِيرَ بَلَحًا، وَالْمُرَاضُ: اسْمٌ لِأَنْوَاعِ الْأَمْرَاضِ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھلوں کی بیع کرتے تھے، جب لوگ پھل توڑتے اور تقاضے کا وقت آتا تو پھر خریدنے والا یہ کہہ دیتا کہ پھلوں کو «الدُّمَانُ» (یعنی پھل بننے سے پہلے کی بیماری) لگ گئی تھی، اس کو مختلف قسم کی بیماریاں لگ گئی تھیں۔ «قُشَام» (ایسی بیماری جو کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے لگ جائے)۔ اس طرح کے حیلہ و حجت کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جھگڑے زیادہ ہو گئے تو فرمایا: ”پھلوں کو فروخت نہ کرو جب تک ان میں پکنے کے آثار واضح نہ ہو جائیں“، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مشورہ دے رہے تھے ان کے زیادہ جھگڑے ہونے کی وجہ سے۔
(ب) خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے مالوں کے پھل فروخت نہ کرتے تھے جب تک ثریا ستارہ طلوع نہ ہو جاتا تاکہ سرخی زردی سے واضح ہو جائے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے «مَرَاض» کے الفاظ ذکر کیے ہیں، «مَرَاقٍ» کے بدلے۔
اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الدُّمَانُ» کھجور کا پھٹ جانا اس کے گابھے سے ظاہر ہونے سے پہلے۔
«القُشَام»: کھجور کا پھل پکنے سے پہلے گر جائے۔ «مَرَاض»: مختلف قسم کی بیماریاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10605]
(ب) خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے مالوں کے پھل فروخت نہ کرتے تھے جب تک ثریا ستارہ طلوع نہ ہو جاتا تاکہ سرخی زردی سے واضح ہو جائے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے «مَرَاض» کے الفاظ ذکر کیے ہیں، «مَرَاقٍ» کے بدلے۔
اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الدُّمَانُ» کھجور کا پھٹ جانا اس کے گابھے سے ظاہر ہونے سے پہلے۔
«القُشَام»: کھجور کا پھل پکنے سے پہلے گر جائے۔ «مَرَاض»: مختلف قسم کی بیماریاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10605]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه البخاري 2087»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10606
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" لَا يُبْتَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ"، قَالَ: وَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ".
طاؤس رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔“
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”پھل کو فروخت نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ کھایا جا سکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10606]
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”پھل کو فروخت نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ کھایا جا سکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10606]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 695»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10607
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَبِيعُ الثَّمَرَ مِنْ غُلَامِهِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَيَقُولُ:" لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ سَيِّدِهِ رِبًا".
ابو معبد، جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے پھل پکنے سے پہلے اپنے غلام کو فروخت کر دیتے اور فرماتے کہ سید اور غلام کے درمیان سود نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10607]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 2004»
الحكم على الحديث: صحيح