🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2277. -- باب: ما جاء في مال العبد
-- باب: غلام کے مال کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَلَامَةَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَفْنَةٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ؟" قُلْتُ: صَدَقَةٌ، فَلَمْ يَأْكُلْ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" كُلُوا" ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِجَفْنَةٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ؟" قُلْتُ: هَدِيَّةٌ، فَأَكَلَ وَقَالَ:" إِنَّا نَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي النَّصَارَى؟، قَالَ:" يَا سَلْمَانُ لَا خَيْرَ فِي النَّصَارَى وَلَا فِيمَنْ يُحِبُّهُمْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، إِلَّا مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ دِينِ صَاحِبِكَ". قَالَ: فَعَلِمْتُ أَنَّ صَاحِبِي كَانَ عَلَى دِينِ عِيسَى يَعْنِي الرَّاهِبَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ سَلْمَانُ قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ زِيَادَةٌ تَدُلُّ عَلَى كَوْنِ سَلْمَانَ عَبْدًا حِينَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روٹی اور گوشت کا برتن لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سلمان! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: صدقہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کھایا اور اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم کھاؤ۔“ پھر میں روٹی اور گوشت کا بھرا ہوا برتن لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے سلمان! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہدیہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور فرمایا: ”ہم ہدیہ کھاتے ہیں، صدقہ نہیں کھاتے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نصاریٰ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: ”اے سلمان! نصاریٰ میں بھلائی نہیں اور نہ ہی ان میں وہ جو ان سے محبت کرتا ہے“، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات) تین مرتبہ فرمائی، ”مگر جو تیرے ساتھی کے دین پر ہو“، راوی کہتے ہیں: میں جان گیا کہ میرا ساتھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین پر تھا، یعنی وہ راہب جو حضرت سلمان کے ساتھ تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: بریدہ کی حدیث میں اضافہ ہے کہ جب سلمان نے ہدیہ دیا وہ غلام تھے۔ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10777]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں