🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2284. -- باب:: الرجل يبيع الشيء إلى أجل ثم يشتريه بأقل
-- باب: ”کوئی شخص کسی چیز کو ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچے، پھر اسے کم قیمت پر خرید لے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10798
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ الْإِمَامُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ الْأَنْصَارِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: دَخَلَتِ امْرَأَتِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ وَلَدٍ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ وَلَدِ زَيْدٍ: إِنِّي بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ عَبْدًا بِثَمَانِمِائَةٍ نَسِيئَةً وَاشْتَرَيْتُهُ مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ نَقْدًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" أَبْلِغِي زَيْدًا أَنْ قَدْ أَبْطَلْتَ جِهَادَكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ تَتُوبَ، بِئْسَمَا شَرَيْتَ، وَبِئْسَ مَا اشْتَرَيْتَ" كَذَا جَاءَ بِهِ شُعْبَةُ، عَنْ طَرِيقِ الْإِرْسَالِ.
ابواسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری بیوی اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ام ولد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو زید بن ارقم کی ام ولد نے کہا: میں نے زید کو ایک غلام 800 درہم میں ادھار فروخت کیا، پھر میں نے ان سے وہ 600 درہم میں نقد خرید لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میری جانب سے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتانا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا جہاد بھی باطل کر لیا۔ ہاں توبہ کرو اور برا ہے جو تو نے خریدا اور جو فروخت کیا۔
شعبہ نے اسے اسی طرح مرسل طریق سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10798]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد 451»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10799
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَالِيَةِ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَتَتْهَا أُمُّ مَحَبَّةٍ فَقَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَكُنْتِ تَعْرِفِينَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَإِنِّي بِعْتُهُ جَارِيَةً إِلَى عَطَائِهِ بِثَمَانِمِائَةٍ نَسِيئَةً وَإِنَّهُ أَرَادَ بَيْعَهَا فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ نَقْدًا، فَقَالَتْ لَهَا:" بِئْسَ مَا اشْتَرَيْتِ وَبِئْسَ مَا اشْتَرَى أَبْلِغِي زَيْدًا أَنَّهُ قَدْ أَبْطَلَ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ يَتُبْ".
ابواسحاق عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ام محبہ آئی، اس نے کہا: اے ام المومنین! کیا آپ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو جانتی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہاں۔ (ام محبہ نے کہا:) میں نے ان کو اپنی لونڈی ان کا وظیفہ ملنے تک 800 درہم ادھار پر فروخت کی تھی، پھر انہوں نے اسے بیچنا چاہا تو میں نے ان سے وہ 600 درہم نقد میں خرید لی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام محبہ سے کہا: برا ہے جو تو نے خریدا اور برا ہے جو انہوں نے خریدا۔ میری بات زید تک پہنچا دو، اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا اپنا جہاد بھی باطل کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10799]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10800
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ امْرَأَتِهِ الْعَالِيَةِ أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي السَّفَرِ بَاعَتْ جَارِيَةً لَهَا إِلَى الْعَطَاءِ مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" بِئْسَ مَا شَرَيْتِ وَبِئْسَ مَا اشْتَرَيْتِ" وَزَادَ، قَالَتْ: أَرَأَيْتِ إِنْ لَمْ آخُذْ إِلَّا رَأْسَ مَالِي، قَالَتْ:" فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ. كَذَا رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ أَيْفَعَ، قَالَتْ: خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مَحَبَّةَ إِلَى مَكَّةَ فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَهُ..
ابواسحاق اپنی زوجہ عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابواسفر کی بیوی نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو ایک لونڈی 800 درہم میں فروخت کر دی۔ اس نے ذکر کیا ہے کہ آپ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: ”تم نے برا فروخت کیا ہے اور برا ہی خریدا ہے۔“ اس نے زیادہ (مزید) کیا ہے کہ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنا اصل مال لوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ﴿فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ﴾ [سورة البقرة: 275] ”جس کے پاس اس کے رب کی نصیحت آگئی، وہ رک گیا تو اس کے لیے وہ ہے جو گزر گیا۔“
(ب) یونس بن ابی اسحاق اپنی والدہ عالیہ بنت ایفع سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں اور ام محبہ مکہ گئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10800]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10801
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ تَكُونُ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا عَنْهَا عَابَتْ عَلَيْهَا بَيْعًا إِلَى الْعَطَاءِ؛ لِأَنَّهُ أَجَلٌ غَيْرُ مَعْلُومٍ وَهَذَا مَا لَا نُجِيزُهُ، لَا أَنَّهَا عَابَتْ عَلَيْهَا مَا اشْتَرَتْ بِنَقْدٍ وَقَدْ بَاعَتْهُ إِلَى أَجَلٍ وَلَوِ اخْتَلَفَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ فِيهِ شَيْئًا، وَقَالَ غَيْرُهُ خِلَافَهُ كَانَ أَصْلُ مَا نَذْهَبُ إِلَيْهِ أَنَّا نَأْخُذُ بِقَوْلِ الَّذِي مَعَهُ الْقِيَاسُ وَالَّذِي مَعَهُ الْقِيَاسُ قَوْلُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: وَجُمْلَةُ هَذَا أَنَّا لَا نُثْبِتُ مِثْلَهُ عَلَى عَائِشَةَ مَعَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ لَا يَبِيعُ إِلَّا مَا ⦗٥٤١⦘ يَرَاهُ حَلَالًا، وَلَا يَبْتَاعُ إِلَّا مِثْلَهُ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا بَاعَ شَيْئًا أَوِ ابْتَاعَهُ نَرَاهُ نَحْنُ مُحَرَّمًا وَهُوَ يَرَاهُ حَلَالًا لَمْ نَزْعُمُ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْبِطُ بِهِ مِنْ عَمَلِهِ شَيْئًا.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہو تو ممکن ہے انہوں نے وظیفہ ملنے تک کی بیع پر عیب لگایا ہو، کیونکہ اس کی مدت معلوم نہیں، اور اس کو ہم جائز نہیں سمجھتے۔ یہ نہیں کہ انہوں نے اس بات پر عیب لگایا کہ اس نے وہ چیز نقد خریدی جو مدت کے ادھار پر فروخت کی تھی۔ اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے تو ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم اس کی بات لیتے ہیں جس کے ساتھ قیاس ہو، اور قیاس زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہم ایسی بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں مانتے، مزید یہ کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ وہی چیز فروخت کرتے اور خریدتے تھے جسے حلال سمجھتے تھے، اور اگر کوئی آدمی ایسی چیز بیچے یا خریدے جسے ہم حرام سمجھیں اور وہ اسے حلال سمجھتا ہو تو ہم یہ نہیں کہتے کہ اللہ عزوجل اس کی وجہ سے اس کے اعمال میں سے کچھ ضائع کر دے گا۔ [صحیح۔ ذکرہ الشافعی فی الام: 3/ 95] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10801]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10802
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا بَاعَ مِنْ رَجُلٍ سَرْجًا وَلَمْ يَنْقُدْ ثَمَنَهُ، فَأَرَادَ صَاحِبُ السَّرْجِ الَّذِي اشْتَرَاهُ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَرَادَ الَّذِي بَاعَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ بِدُونِ مَا بَاعَهُ مِنْهُ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" فَلَعَلَّهُ لَوْ بَاعَهُ مِنْ غَيْرِهِ بَاعَهُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ أَوْ أَنْقَصَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کو زین فروخت کی، اس نے قیمت نقد نہ دی۔ پھر زین خریدنے والے نے اسے بیچنا چاہا تو فروخت کرنے والے نے ارادہ کیا کہ وہ اسے اس قیمت سے کم میں لے لے جتنے میں اس نے اسے فروخت کی تھی، اس کے متعلق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا تو وہ اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ اگر وہ کسی دوسرے کو بیچتا تو ممکن ہے اسی قیمت میں فروخت کرتا یا اس سے بھی کم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10802]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 14822»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں