السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2289. -- باب: من باع حيوانا، أو غيره واستثنى منافعه مدة
-- باب: جس شخص نے کوئی جانور یا کوئی اور چیز بیچی اور ایک مقررہ مدت تک اس کے منافع کا اپنے لیے استثناء کر لیا۔
حدیث نمبر: 10842
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ" تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ.⦗٥٥١⦘ وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ عَطَاءٍ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَأَخْرَجَ حَدِيثَ أَبِي الزُّبَيْرِ.
سالم بن ابوالجعد سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ”تو اپنے گھر اس پر سوار ہو کر پہنچ جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10842]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 715»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10843
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، قَالَ: فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ، فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بِعْنِيهِ" فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ وَقُلْتُ: عَلَى أَنَّ ظَهْرَهُ لِي إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ:" وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ" فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً، ثُمَّ وَهَبَهُ لِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَبَعْضِ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ شَرْطًا فِي الْبَيْعِ، وَبَعْضُهَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَضُّلًا، وَتَكَرُّمًا وَمَعْرَوفًا بَعْدَ الْبَيْعِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابوزبیر، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرا اونٹ تھک گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دوڑایا تو وہ بھاگنے لگا، پھر میں اس کی لگام کو کنٹرول کرتا رہا، لیکن میں نہ کر سکا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے اسے پانچ اوقیہ میں فروخت کر دیا اور میں نے مدینہ تک سواری کرنے کی شرط کر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ مدینہ تک سواری کر لیں۔“ جب میں مدینہ آیا تو میں اونٹ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ زیادہ کر دیا اور پھر وہ مجھے ہبہ کر دیا۔
نوٹ: بعض الفاظ بیع میں شرط کرنے پر دلالت کرتے ہیں اور بعض یہ کہ بیع کے بعد احسان وغیرہ کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10843]
نوٹ: بعض الفاظ بیع میں شرط کرنے پر دلالت کرتے ہیں اور بعض یہ کہ بیع کے بعد احسان وغیرہ کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10843]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 715»
الحكم على الحديث: صحيح