السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2355. -- باب: من كره أن يقول: أسلمت عند فلان في كذا، وليقل: سلفت
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ کہنے کو مکروہ سمجھا کہ ”میں نے فلاں کے پاس فلاں چیز میں اسلمت (بیع سلم کی) ہے“، بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے کہ ”میں نے سلفت (بیع سلف کی) ہے“۔
حدیث نمبر: 11142
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ: أَسْلَمَ كَذَا وَكَذَا، وَيَقُولُ:" إِنَّمَا الْإِسْلَامُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ کہنا کہ میں فلاں چیز کے سپرد کیا گیا ہوں مکروہ ہے، آپ فرماتے تھے کہ سپردگی صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11142]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزق 14115»
الحكم على الحديث: مصنف عبدالرزق 14115